155 کروڑ روپے کے بینک فراڈ معاملے میں ای ڈی کی چھاپہ ماری
ای ڈی نے یہ تحقیقات سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی جانب سے درج ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی تھیں۔ سی بی آئی کی بی ایس ایف بی شاخ نے مہیش ٹمبر پرائیویٹ لمیٹڈ، اس کے ڈائریکٹروں اور دیگر افراد کے خلاف تعزیراتِ ہند اور انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس کے بعد منی لانڈرنگ روک تھام قانون کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی چنڈی گڑھ علاقائی یونٹ نے مہیش ٹمبر پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف جاری تحقیقات کے سلسلے میں حال ہی میں کرنال، دہلی اور گوا میں اشوک متل، سوربھ ڈھینگرا، بھارت بھوشن متل، رمن سنگھل اور دیگر سے وابستہ 11 مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔
ای ڈی نے یہ تحقیقات سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی جانب سے درج ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی تھیں۔ سی بی آئی کی بی ایس ایف بی شاخ نے مہیش ٹمبر پرائیویٹ لمیٹڈ، اس کے ڈائریکٹروں اور دیگر افراد کے خلاف تعزیراتِ ہند اور انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس کے بعد منی لانڈرنگ روک تھام قانون کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
یہ معاملہ فیناکل سسٹم میں اندراج کیے بغیر غیر مجاز سوئفٹ ترامیم کے ذریعے غیر ملکی لیٹر آف کریڈٹ میں دھوکہ دہی سے اضافہ کرنے سے متعلق ہے، جس کے نتیجے میں اورینٹل بینک آف کامرس اور اس سے وابستہ بینکوں کو تقریباً 155.21 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔
ای ڈی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مہیش ٹمبر پرائیویٹ لمیٹڈ نے ہندوستان اور سنگاپور میں اپنی وابستہ کمپنیوں اور بعض افراد کے ساتھ مل کر سازش کی۔
کمپنی نے لکڑی کی حقیقی درآمد کے بغیر ہیرا پھیری کیے گئے ایف ایل سی کے ذریعے تقریباً 195.02 کروڑ روپے کی مالی دھوکہ دہی کی۔
تحقیقات کے دوران کسٹم حکام نے یہ بھی ثابت کیا کہ بینکوں کو پیش کیے گئے متعدد "بل آف انٹری” اور "بل آف لیڈنگ” جعلی اور فرضی تھے۔ مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایمیزون ایکسپورٹس پی ٹی ای لمیٹڈ، مہیش ٹمبر سنگاپور پی ٹی ای لمیٹڈ، ٹریفک میڈیا انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، بی وی ایم شپنگ پی ٹی ای لمیٹڈ اور پرل میری ٹائم پی ٹی ای لمیٹڈ جیسی کمپنیاں ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھیں جس کے ذریعے سنگاپور سے ہندوستان میں لکڑی کی فرضی درآمد ظاہر کی جاتی تھی۔
اس نیٹ ورک کا مقصد بینک کو گمراہ کرکے جعلی درآمدات کے بدلے دھوکہ دہی سے ایف ایل سی کھلوانا اور ان میں اضافہ کروانا تھا۔ ای ڈی کے مطابق تحقیقات میں اشوک کمار متل، رمن سنگھل اور دیپک سنگلا کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔