تلنگانہ

تلنگانہ میں SIR-2026: تقریباً 74 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج ہونے کا خدشہ، اینومریشن فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ آج

تلنگانہ میں مجموعی طور پر تقریباً 3.38 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں سے اب تک تقریباً 2.64 کروڑ ووٹروں نے اپنے اینومریشن فارم جمع کرائے ہیں۔ دوسری جانب لاکھوں فارم ایسے ہیں جو یا تو ابھی تک جمع نہیں ہوئے یا پھر بوتھ لیول افسران کے پاس تصدیق کے مرحلے میں ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں خصوصی جامع نظرثانی (SIR-2026) کے تحت ووٹر فہرستوں کی جانچ اور تصدیق کا عمل جاری ہے، جبکہ اینومریشن فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ آج، 10 اگست کو ختم ہورہی ہے۔ آخری تاریخ سے قبل سامنے آنے والے اعداد و شمار نے تشویش میں اضافہ کردیا ہے، کیونکہ ریاست میں تقریباً 74 لاکھ ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے خارج ہونے کے خطرے میں بتائے جارہے ہیں۔

تلنگانہ میں مجموعی طور پر تقریباً 3.38 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں سے اب تک تقریباً 2.64 کروڑ ووٹروں نے اپنے اینومریشن فارم جمع کرائے ہیں۔ دوسری جانب لاکھوں فارم ایسے ہیں جو یا تو ابھی تک جمع نہیں ہوئے یا پھر بوتھ لیول افسران کے پاس تصدیق کے مرحلے میں ہیں۔

حکام کے مطابق 5,07,908 ووٹروں نے ضروری اصلاحات کے بعد اپنے فارم دوبارہ جمع کرائے ہیں، جبکہ تقریباً 69 لاکھ فارم بوتھ لیول افسران کے پاس تصدیق کے لیے زیر التوا ہیں۔

ریاست کے بڑے اور گنجان آبادی والے اضلاع میں فارم جمع کرانے کی شرح خاص طور پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں صرف 36.7 فیصد ووٹروں نے فارم جمع کرائے ہیں، جبکہ میڑچل میں یہ شرح 35.19 فیصد اور رنگاریڈی میں 32.9 فیصد رہی ہے۔

ان اضلاع میں کم شرح کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہاں ووٹروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایسے میں معمولی فیصد بھی لاکھوں ووٹروں کو متاثر کرسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق خصوصی جامع نظرثانی کے دوران ایسے نام انتخابی فہرست سے خارج کیے جاسکتے ہیں جن کے بارے میں تصدیق ہوجائے کہ ووٹر کا انتقال ہوچکا ہے، وہ مستقل طور پر کسی دوسرے مقام پر منتقل ہوچکا ہے، اس کا نام ایک سے زیادہ مرتبہ درج ہے یا وہ اپنے اندراج کے لیے مطلوبہ ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد انتخابی فہرست کو درست، شفاف اور حقیقی ووٹروں پر مشتمل بنانا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ان اہل ووٹروں کے بارے میں بھی تشویش پیدا ہوگئی ہے جنہوں نے کسی وجہ سے مقررہ مدت کے اندر فارم جمع نہیں کرایا یا جن کے فارم ابھی تصدیق کے مرحلے میں ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک تیار کی گئی تصدیق شدہ ووٹر فہرست میں 2,68,19,028 ووٹرز شامل ہیں۔

جن افراد کے نام حتمی انتخابی فہرست میں موجود نہیں ہوں گے، انہیں نوٹس جاری کیے جائیں گے تاکہ انہیں اپنے نام کے اخراج کی وجہ جاننے اور ضرورت پڑنے پر اپنا دعویٰ یا اعتراض پیش کرنے کا موقع مل سکے۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ انتخابی فہرست میں نام موجود ہونا کسی شہری کے حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی بنیادی شرط ہے۔ کسی اہل شہری کا نام فہرست سے خارج ہونے کی صورت میں وہ عملی طور پر اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب پانچ لاکھ سے زیادہ ووٹروں کا اصلاحات کے بعد فارم دوبارہ جمع کرانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جانچ کے دوران بعض اندراجات میں تصحیح یا اضافی تصدیق کی ضرورت پیش آرہی ہے۔

اسی طرح تقریباً 69 لاکھ فارموں کا بوتھ لیول افسران کے پاس زیرِ تصدیق ہونا بھی اہم ہے۔ اس لیے موجودہ اعداد و شمار کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد اہل ووٹروں کی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے۔

اینومریشن فارم جمع نہ کرانے والے ووٹروں کے لیے آج کی تاریخ انتہائی اہم ہے۔ ایسے تمام افراد کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ اپنے ووٹر ریکارڈ اور فارم کی صورتحال کی بروقت جانچ کریں، تاکہ کسی اہل شہری کا نام محض فارم جمع نہ ہونے یا تصدیق میں تاخیر کی وجہ سے انتخابی فہرست سے متاثر نہ ہو۔