رینوکا سوامی قتل کیس: درشن کے ساتھی پردوش کا سنسنی خیز انکشاف، مبینہ تشدد کی تفصیلات سامنے آگئیں
کنڑ اداکار درشن سے منسلک رینوکا سوامی قتل کیس میں مزید سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ کیس میں ملزم نمبر 14 (A-14) کے طور پر شامل درشن کے ساتھی پردوش نے مبینہ طور پر سرکاری گواہ (Approver) بننے کے بعد تفتیش کے دوران اہم انکشافات کیے ہیں۔
بنگلورو: کنڑ اداکار درشن سے منسلک رینوکا سوامی قتل کیس میں مزید سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ کیس میں ملزم نمبر 14 (A-14) کے طور پر شامل درشن کے ساتھی پردوش نے مبینہ طور پر سرکاری گواہ (Approver) بننے کے بعد تفتیش کے دوران اہم انکشافات کیے ہیں۔
پردوش کے مبینہ بیان کے مطابق، رینوکا سوامی نے اداکارہ پویترا گوڑا کو پیغامات بھیجے تھے، جس کے بعد اسے مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ درشن نے رینوکا سوامی کو گالیاں دیں اور اس کے سر پر اس قدر حملہ کیا کہ خون بہنے لگا۔
پردوش نے مبینہ طور پر تفتیشی حکام کو بتایا کہ درشن کی فون کال کے بعد پویترا گوڑا بھی جائے وقوعہ پر پہنچی اور مبینہ طور پر رینوکا سوامی کو چپل سے مارا۔
بیان کے مطابق رینوکا سوامی کے کپڑے اتار کر اسے صرف زیرِ جامہ میں رکھا گیا اور نائیلون کی رسی کے ذریعے ٹاٹا ایس گاڑی سے لٹکایا گیا، جس کے بعد اس پر مبینہ طور پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا۔
پردوش کے مطابق، ایک موقع پر رینوکا سوامی کو کھانا اور پانی بھی دیا گیا، تاہم اس کے بعد مبینہ طور پر دوبارہ تشدد شروع کردیا گیا۔ بیان میں الزام ہے کہ درشن نے رینوکا سوامی کے سینے اور گردن پر زور سے لاتیں ماریں، جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہوکر گر گیا۔
پردوش نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس کے بعد درشن نے رینوکا سوامی کے سینے پر کھڑے ہوکر اسے کچلنے کی کوشش کی۔ پردوش کے مطابق، اس نے درشن کو وہاں سے ہٹایا اور اسی وقت اسے اندازہ ہوا کہ رینوکا سوامی کی موت ہوچکی ہے۔
مبینہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درشن نے دھمکی دی تھی کہ اگر قتل کے معاملے کو ’’سیٹل‘‘ نہ کیا گیا تو وہ اپنی بندوق سے خود کو گولی مار لے گا۔ پردوش کے مطابق، اسی وجہ سے واقعے کو چھپانے اور ایک جھوٹی کہانی تیار کرنے کے لیے مبینہ طور پر بات چیت کی گئی۔
پردوش نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ اس نے کیس سے متعلق اپنی معلومات تفتیشی حکام کے سامنے پیش کردی ہیں۔ اس نے اپنی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست کی ہے کہ اسے درشن اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ رکھنے کے بجائے الگ سیل میں رکھا جائے۔
پردوش کی درخواست پر عدالت میں سماعت جاری ہے اور عدالت اس معاملے پر اپنا حتمی فیصلہ سنائے گی۔ بیان میں لگائے گئے الزامات عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں اور ان کی حتمی قانونی حیثیت عدالت کے فیصلے سے طے ہوگی۔