تعلیم، ڈگری اور وکالت،سب کچھ پیچھے چھوٹ گیا۔ مندر میں بھیک مانگنے والے ایڈوکیٹ کی درد بھری داستان
تلگو فلم بچگاڈو میں ماں کی صحت کے لئے ایک کروڑ پتی کو بھیک مانگتے دیکھ کر لاکھوں آنکھیں نم ہوئی تھیں لیکن حقیقت کی دنیا میں تلنگانہ کے راجنا سرسلہ ضلع کی ویمل واڑہ مندرسے ایک ایسا ہی واقعہ سامنے آیا ہے جو انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گا۔
حیدرآباد: تلگو فلم بچگاڈو میں ماں کی صحت کے لئے ایک کروڑ پتی کو بھیک مانگتے دیکھ کر لاکھوں آنکھیں نم ہوئی تھیں لیکن حقیقت کی دنیا میں تلنگانہ کے راجنا سرسلہ ضلع کی ویمل واڑہ مندرسے ایک ایسا ہی واقعہ سامنے آیا ہے جو انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گا۔
یہاں مندر کے سائے میں ایک ایسا جوڑا بھیک مانگ رہا ہے جن کی تعلیم اور ماضی کی زندگی جان کر پولیس اور انتظامیہ بھی دنگ رہ گیا۔
ضلع پولیس اور حکام نے جب مندر کے اطراف بھیک مانگنے والوں کے لئے کونسلنگ سیشن منعقد کیا تو ان کی نظر ایک جوڑے پر پڑی جو روانی سے انگریزی بول رہے تھے۔
پوچھ گچھ پر معلوم ہوا کہ شوہر جلندھر ریڈی ضلع پدا پلی کے منتھنی کے رہنے والے ہیں اور وہ ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد کریم نگر میں بطور وکیل خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ سریشا نے بی کام کمپیوٹرس کیا ہے اور وہ اپنا ذاتی کاروبار چلاتی تھیں۔
کرونا کی وبا سے پہلے تک یہ جوڑا ایک خوشحال زندگی گزار رہا تھا لیکن بیماری اور معاشی بحران نے ان کی دنیا اجاڑ دی۔ اہلیہ کی طبیعت بگڑی تو جلندھر ریڈی نے ان کا ساتھ دینے کے لئے اپنی وکالت اور گھر بار سب کچھ چھوڑ دیا۔
اپنوں کی بے رخی اور مالی تنگدستی انہیں ویمل واڑہ کھینچ لائی۔ آج یہ تعلیم یافتہ جوڑا مندر کے پرساد اور لوگوں کے دیئے ہوئے صدقات پر گزارا کر رہا ہے۔ جلندھر ریڈی کا کہنا ہے کہ جائیدادیں چلی گئیں، رشتے ناطے ٹوٹ گئے لیکن میں اپنی شریکِ حیات کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔
یہ صرف ایک جوڑے کی کہانی نہیں ہے اس مندر کے گرد و نواح میں ایسے 100 سے زائد افراد موجود ہیں جن میں اکثریت بزرگوں کی ہے۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کے پاس جائیدادیں تو ہیں لیکن اولاد کی محبت اور سر چھپانے کو چھت نہیں۔ کئی بزرگوں نے روتے ہوئے بتایا کہ گھر جائیں تو بچے مار ڈالیں گے اس لئے بھگوان کے در پر پناہ لی ہے۔
ایڈیشنل ایس پی چندریا نے اس صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مندر کے احاطہ میں بھیک مانگنا ممنوع ہے لیکن ان مجبور لوگوں کے لئے پولیس خاموش تماشائی نہیں رہے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جو بچے اپنے بزرگ والدین کو سڑکوں پر چھوڑ دیتے ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
کونسلنگ کے ذریعہ بزرگوں کو دوبارہ ان کے گھروں میں آباد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جلندھر ریڈی اور ان جیسی مجبور شخصیتوں کو حکومت کی جانب سے مدد فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
سماج اور حکومت کے لئے یہ ایک بڑا سوال ہے کہ اعلیٰ تعلیم اور ڈگریاں ہونے کے باوجود اگر ایک شہری اس حال کو پہنچ جائے تو ہمارا سماجی تحفظ کا نظام کہاں کھڑا ہے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانیت کا ناطہ جوڑ کر ان مجبور ہاتھوں کو سہارا دیا جائے۔