حیدرآباد

شادی میں سادگی اور خاندانی ہم آہنگی پر زور – اجتماعی شادی کی تقریب سے مولانا عبدالملک مظاہری کا خطاب

مولانا عبدالملک مظاہری، ناظم مصباح العلوم اے بیٹری لائن و شیخ الحدیث جامعہ فاطمہ نسواں، نے عامتہ المسلمین کو تلقین کی کہ نکاح کو سادگی سے انجام دیں۔

حیدرآباد: مولانا عبدالملک مظاہری، ناظم مصباح العلوم اے بیٹری لائن و شیخ الحدیث جامعہ فاطمہ نسواں، نے عامتہ المسلمین کو تلقین کی کہ نکاح کو سادگی سے انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ سرپرستوں اور نوجوانوں کو بغیر لین دین کے شادی انجام دینی چاہیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ نکاح بابرکت ہے جو کم خرچ اور آسان انداز میں ہو۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

یہ خیالات مولانا نے سویرا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے زیر اہتمام اکبر فنکشن پلازہ، میر جملہ تالاب کٹہ میں 16 ستمبر کو منعقدہ مستحق لڑکیوں کی اجتماعی شادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔

مولانا عبدالملک مظاہری نے نوجوانوں کو شادی کے بعد اپنے سسرالی رشتہ داروں کی قدر کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ بیوی کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں اور ساس و بہو کے بہتر اور محبت والے تعلق سے ہی گھر اور خاندان پُرسکون رہتا ہے۔

مولانا نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ خود پانچ وقت نماز کے پابند ہوں اور اپنی بیوی اور والدین کو بھی نماز کا پابند بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ گھروں میں جب نماز اور قرآن کی تلاوت ہوگی تو اللہ کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی۔

تقریب کے دوران سوسائٹی کے بانی و صدر جناب محمد صدیق نے بتایا کہ پندرہ برس قبل اس سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدائی دنوں میں دو شادیاں انجام پائی تھیں اور آج 16 ستمبر کو 6 شادیاں انجام پائی ہیں۔ سوسائٹی کے دیگر ذمہ داران اور معاونین کے تعاون اور دلچسپی کے نتیجے میں یہ کارِ خیر انجام پاتا ہے۔

اس موقع پر معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی اور مہمانوں کی ضیافت ظہرانہ سے کی گئی۔ مولانا خلیل احمد رشادی نے بتایا کہ مستحق لڑکیوں کی شادی کے موقع پر ہر جوڑے کو زندگی کی ابتدائی ضروریات کا سامان دیا جاتا ہے اور اب تک جتنی بھی شادیاں انجام پائی ہیں، وہ الحمدللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

مولانا نے نوجوانوں کو سیل فون کے بیجا استعمال سے پرہیز کرنے کی بھی تاکید کی۔