حیدرآباد

کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا : ریونت ریڈی

چیف منسٹرتلنگانہ اے ریونت ریڈی نے آج یہاں تیقن دیا ہے کہ موسی ندی ڈیولپمنٹ پراجکٹ کی وجہ بیدخل کردہ تمام خاندانوں کی بازآبادکاری کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

حیدرآباد (آئی اے این ایس) چیف منسٹرتلنگانہ اے ریونت ریڈی نے آج یہاں تیقن دیا ہے کہ موسی ندی ڈیولپمنٹ پراجکٹ کی وجہ بیدخل کردہ تمام خاندانوں کی بازآبادکاری کی جائے گی۔ اس سلسلہ میں فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع: وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کا اوساکا چیمبر آف کامرس سے خطاب

کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا۔ قانون ساز کونسل میں آج تقریر کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ موسی ندی کے احیاء اور نشاۃ ثانیہ کے لیے روڈ میاپ مرتب کیاگیاہے جس کے تحت ترقیاتی اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ موسی ندی کے کنارے رہنے والے افراد کے لیے جن کا تخلیہ کروایا گیا ان کے لیے کوئی مسائل اور مشکلات پیدا نہیں کی جائیں گی۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ موسی پروجکٹ کے خلاف جاری گمراہ کن پروپگینڈہ ختم کردیں اور اس سلسلہ میں تجاویز پیش کریں تاکہ ایک مقصد کی تکمیل ہوسکے۔ چیف منسٹر نے یہ بھی بتایا ہے کہ حکومت ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکہ کی زیر قیادت کابینی ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کے لیے تیار ہے جو کہ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی و صنعت ڈی سریدھر بابو اور وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر پر مشتمل ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا ہے کہ حکومت موسی ندی پراجکٹ کو روبہ عمل لانے کی خواہاں ہیں جو کہ عرصہ دراز سے آلودہ ہے۔ ہم یہاں رہنے والے افراد کی صحت کو بھی پیش نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم اس بات کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ موسی ندی کا احیاء ہوسکے۔

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دروغ گوئی پر مبنی بیانات دینے کے بجائے تعمیری نقطہ نظر سے تجاویز پیش کریں تاکہ حکومت اس پر غور کرتے ہوئے مذکورہ پراجکٹ کو بہتر طور پر روبہ عمل لائے۔چیف منسٹر نے موسی ندی سے متعلق پروجکٹ کو نظرانداز کردینے پر بی آر ایس حکومت کو تنقید کانشانہ بنایا اور کہاکہ سابق حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی بلکہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے سرگرم رہی۔

انہوں نے اس سلسلہ میں سرسلہ کے رکن اسمبلی کے ٹی راماراؤ کے ادعا کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سابق حکومت موسی ندی ڈیولپمنٹ کارپوریشن قائم کی تھی۔ پراجکٹ پر غور کررہی تھی۔ انہوں نے بی آر ایس سے استفسار کیاہے کہ آیا کس وجہ پراجکٹ کو سیاسی رنگ دیا جارہاہے۔

چیف منسٹر نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے بیگم پیٹ ایرپورٹ پر انڈرپاس روڈ فروغ دینے کے لیے ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا سے اجازت حاصل کرلی ہے جو کہ ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی رہے گی۔ ٹریفک کے مسئلہ پر چیف منسٹر نے تیقن دیا ہے کہ حکومت ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری پیدا کرنے کی خواہاں ہیں۔

اس سلسلہ میں فٹ پاتھوں سے قبضہ جات برخواست کئے جائیں گے۔ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کاروبار کرنے والوں کے لیے جگہ متعین کی جائے گی کیونکہ فٹ پاتھوں پر کاروبار کی وجہ مسائل پیش آرہے ہیں۔ پارکنگ کا مسئلہ بھی حکومت حل کرے گی۔ اس کے لیے کے بی آر پارک کے قریب ملٹی لیول کارپارکنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ نلگنڈہ اور وجئے واڑہ روٹس پر بھی ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جارہاہے۔

انہوں نے تلنگانہ رائزنگ 2047 کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت ترقیاتی اقدامات نے تیزی پیدا کررہی ہے۔ صنعتکاروں کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔آلودگی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہلی‘ممبئی‘ چینائی اور بنگلورو میں بھی آلودگی کا خطرہ پیدا ہوتا جارہاہے۔ حیدرآباد چٹانوں اور جھیلوں کے شہر سے مشہور ہے۔

قدیم شہر میں ہی چارمینار‘ گلزار حوض اور کئی تاریخی یادگار مقامات قائم ہیں جس سے قدیم شہر کی اہمیت کااندازہ ہوتا ہے۔ لیکن ہم اکثر پرانا شہر کہہ کر حوالہ دیتے ہیں۔ شہر کی شاندار تاریخ کے باوجود حیدرآباد کو اب کئی چالنجوں کا سامنا کرناپڑرہاہے۔

انہوں نے میٹرو پراجکٹ‘ سکندرآباد اور چرلاپلی ریلوے اسٹیشنوں کے ڈیولپمنٹ کا بھی تذکرہ کیا اور کہاکہ مرکزی حکومت کا رویہ اس تعلق سے مثبت ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت ایلی ویٹیڈ کارٹر کی تعمیر کا بڑا منصوبہ بنایاہے جو قلب شہر سے گذرے گا جس سے گنڈی پیٹ تا گورولی سفر میں سہولت ہوگی۔