تلنگانہ

ماہِ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی ہے، پہلے عشرے کے بعد بھی غفلت نہ برتی جائے: مولانا جعفر پاشاہ

انہوں نے نوجوانوں کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کے بعد بھی نمازوں کی پابندی اور مساجد سے تعلق برقرار رکھیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ جیسے جیسے رمضان گزرتا ہے، مساجد کی صفوں میں کمی آتی جاتی ہے اور عید کے بعد وہی ویرانی لوٹ آتی ہے۔

حیدرآباد: امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے کہا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ماہِ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ گزر چکا ہے اور یہ وقت احتساب اور بیداری کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مبارک باد کے مستحق وہ افراد ہیں جنہوں نے پہلے عشرے میں روزہ، نماز، تراویح، ذکر و اذکار اور خیرات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کی۔

متعلقہ خبریں
جلسہ بیاد محمد مظہر الدین مرحوم (مظہر ملت ) و دعوت افطار کا اہتمام
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
نرمل اربن منڈل ایجوکیشن آفیسر ناگیشور راؤ برخاست، اردو میڈیم اسکول کے طلبہ منتقلی معاملہ میں بڑی کارروائی
بوہرہ کمیونٹی میں ہر گھر میں حافظ قرآن بنانے کا ہدف اور معاشرہ ، تعلیم و صحت پر توجہ،ڈاکٹر الیاس نجمی
عیدالفطر سےقبل بی جے پی کامودی کٹس کاوزیرگجیندر سنگھ شیخاوت کےہاتھوں پوسٹر جاری۔

مولانا جعفر پاشاہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملت اسلامیہ کا ایک بڑا طبقہ، خصوصاً نوجوان نسل، رمضان کے قیمتی لمحات کو ضائع کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصور غلط ہے کہ روزہ اور تراویح کے بعد انسان ہر طرح کی غیر ضروری مصروفیات میں مشغول ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کئی افراد رات دیر تک سڑکوں، بازاروں اور ہوٹلوں میں وقت گزارتے ہیں، جس سے رمضان کی روح متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو بھی تلقین کی کہ وہ سیل فون کے غیر ضروری استعمال سے گریز کریں اور افطار سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل تمام گھریلو کاموں سے فارغ ہو کر ذکر و دعا میں مشغول ہو جائیں، کیونکہ افطار سے پہلے کی دعائیں قبولیت کا خاص وقت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے ہر لمحے کی قدر کی جانی چاہیے کیونکہ معلوم نہیں آئندہ سال کون اس مبارک مہینے کو پائے گا۔

مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ صدقہ، خیرات اور زکوٰۃ یقیناً اہم ہیں، لیکن اس سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کسی کا قرض یا حق تو باقی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی خدمت، بیوی بچوں کے حقوق کی ادائیگی اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک بھی دینی ذمہ داری ہے۔ بعض افراد اپنے والدین کی مناسب دیکھ بھال نہیں کرتے یا بیوی بچوں کے اخراجات پورے نہیں کرتے، جو انتہائی قابلِ تشویش بات ہے۔

انہوں نے وراثت کے مسئلے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد کی فوری اور منصفانہ تقسیم اسلامی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ تاخیر یا کسی وارث کو محروم رکھنا سنگین گناہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل بھائیوں اور بہنوں کے درمیان اختلافات کے باعث وراثت کی تقسیم کے معاملات برسوں تک لٹکے رہتے ہیں، جو شرعاً درست نہیں۔

مولانا جعفر پاشاہ نے مزید کہا کہ امانتوں کی واپسی، بیواؤں اور یتیموں کے حقوق کی ادائیگی اور باہمی رنجشوں کا خاتمہ بھی عبادت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انسان لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتا، اس کی عبادات کی قبولیت مشکوک رہتی ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کے بعد بھی نمازوں کی پابندی اور مساجد سے تعلق برقرار رکھیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ جیسے جیسے رمضان گزرتا ہے، مساجد کی صفوں میں کمی آتی جاتی ہے اور عید کے بعد وہی ویرانی لوٹ آتی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا نے کہا کہ ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ ہم صرف رمضان کی عبادت کرتے ہیں یا اللہ کی۔ اگر ہم اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو پھر زندگی کی آخری سانس تک بندگی اور اطاعت کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔