ملت کے نام خادم قوم وملت کے تیس سال،تیس سالہ طویل ترین اور بے لوث خدمات پر اظہارتشکر
سبھی انسان اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسانوں کی ضروریات مختلف ہوا کرتی ہیں ،ان میں سے بعض دینی ہیں تو بعض دنیوی اور بعض جسمانی ہیں تو بعض روحانی،یہ سنت اللہ ہے کہ حالات کی مناسبت سے جس دور میں انسانیت کو جس کی ضرورت پیش آتی ہے۔
منجانب: مریدین حضرت حافظ صاحب
مخلوق کی خدمت اورانسانوں کی اعانت اسلام کی بنیادی تعلیم ہے ، خدمت خلق رضائے الٰہی کا اہم ترین ذریعہ ہے ،یہ وہ عظیم الشان سنت ہے جسے اللہ کے حبیب حضرت محمد الرسول اللہؐ ؐ ہر وقت کیا کرتے تھے ، بلاشبہ اللہ کے رسول ؐ اس دنیا میں سب سے زیادہ انسانیت کا دکھ درد رکھنے والے تھے ۔
اعلان نبوت سے قبل انسانیت کی خدمت آپؐ کا محبوب مشغلہ تھااور نبوت کے بار گراں کے بعد بھی آپ ؐ اس کام کو بدستور جاری رکھے ہوئے تھے ،اسی طرح آپؐ کے بعد خلفائے راشدین اپنے اپنے دور خلافت میں انسانیت کی خدمت کیا کرتے تھے اور تمام ہی صحابہؓ کی زندگیاں خدمت خلق کا بہترین نمونہ تھی جس میں وہ بغیر کسی ذاتی غرض کے مخلوق خدا کی بھلائی اور خیر خواہی کے کام انجام دیتے تھے، رسول اللہؐ کے ارشادات مبارکہ’’ بہترین آدمی وہ ہے جو لوگوں کو نفع پہنچانے والا ہے اور رحم کرنے والے پر اللہ تعالیٰ رحم کرتا ہے‘‘پریہ مبارک ہستیاں عمل پیرا تھے۔
سبھی انسان اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسانوں کی ضروریات مختلف ہوا کرتی ہیں ،ان میں سے بعض دینی ہیں تو بعض دنیوی اور بعض جسمانی ہیں تو بعض روحانی،یہ سنت اللہ ہے کہ حالات کی مناسبت سے جس دور میں انسانیت کو جس کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ویسے ہی افراد اور شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے،اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ شخصیات پیدا نہیں ہوتی ہیں بلکہ پیدا کی جاتی ہیں ،ان شخصیتوں کی نظر مخلوق پر نہیں بلکہ خالق پر ہوتی ہیں ، وہ حضرات اپنے کام کو ضرورت نہیں بلکہ سعادت سمجھ کر انجام دیتے ہیں،تاریخ کے صفحات میں ایسے بے شمار افراد کے نام سنہری لفظوں میں درج ہیں جنہوں نے بڑی جستجو وانہماک ،توجہ وتسلسل اور غیر معمولی جوش وخروش کے ساتھ انسانیت کی خدمت کی ہے ، خدمت خلق کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا کر صبح وشام اسی میں گزر دئے ، روز اول ہی سے ایسے اشخاص کا سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا اور خلقت کی خلقت ان سے نفع اٹھاتی رہے گی اور انہیں اپنے سروں کا تاج بناکر رکھے گی ۔
مادہ پرستی ،خود غرضی اور زر پرستی کے اس دور میں جہاں بہت سے لوگوں نے روحانی خدمت کو ایک پیشہ اور آمدنی کا ذریعہ بنادیا ہے اور روحانی مرض کے امتحان سے گزر رہے مجبور لوگوں کا استحصال کرنے لگے ہیں ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اس عظیم خد مت کے لئے سر زمین دکن سے ایک ایسی ہستی کو پیدا فرمایا جسے عزیز دکن خادم قوم وملت حافظ قاری شاہ محمد عبدالمقتدر قریشی نبیرہ حضرت قطب دکنؒ کے نام سے جانتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مخلص بندہ کے دل میں انسانیت کا درد دے کر اس کام کی طرف متوجہ کیا اور محض اپنے فضل سے ایک بڑی خلقت کا رخ آپ کی طرف موڑ دیا اور اپنی قدرت سے ذرہ کو مہتاب بناکر خدمت خلق کے افق پر چمکادیا، سفرِ خدمت خلق کا آغاز کرنے سے قبل ہی آپ کے دل میں خلق خدا کی خدمت کا باربار داعیہ پیدا ہوتا رہتا تھا اور جب کبھی کسی محتاج ،لاچار اور خصوصا بیمار افراد پر نظر پڑتی تو دل تڑپ جاتا تھا اور بے ساختہ زبان پر یہ شعر جاری ہوجاتا تھا کہ
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ طلب صادق ،دلی تڑپ اور اعتماد کامل ہی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسباب کی شکل میںمدد و نصرت کا ظہور ہوتا ہے، چنانچہ خادم قوم وملت کی طلب وتڑپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص مدد و نصرت اور انعامات ربانی کا ظہور ہوا ،بغیر اعلان واطلاع اور بلا تشہیر کے لوگ آپ سے رجوع ہونے لگے اور روز بروز مستفدین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ،کسے پتہ تھاکہ یہ کمزور جان اور ہلکا پھلکا جسم رکھنے والا نوجوان بہت جلد خادم قوم وملت سے مخدوم ملت اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن جائے گا ،وہ لوگ جنہیں روحانیعلوم(عملیات) میںید طولیٰ حاصل تھا اور جنہیں اپنے علم وفن پر ناز تھا اس نوجوان کو حیرت واستعجاب بلکہ رشک کی نگاہ سے دیکھنے لگے اور دیکھتے ہی رہ گئے،بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے خادم قوم وملت کے ذریعہ اپنی قدرت کے جلوئے دکھائے اور آپ کو مرجع خلائق بناکر انسانیت کی خدمت کا وہ عظیم الشان کام لیا ،لے رہا ہے اور لیتا رہے گا جس میں محبت ومعرفت الٰہی کا رزا پوشیدہ ہے ۔
رسول اللہؐ نے اپنے اصحاب ؓ سے ایک حدیث قدسی بیان کی جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن صاحب ثروت و حیثیت اور صاحب استطاعت سے اللہ تعالیٰ مخاطب ہوکر فرمائے گااے آدم کے بیٹے !میں بیمار تھا تونے میری عیادت نہیں کی،وہ(بڑے تعجب سے) کہے گا میں کیسے آپ کی عیادت کرتا آپ تو ساری کائنات کے رب ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا ،اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا،پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گااے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا تو نے مجھے کھلایا نہیں ،وہ (متعجب ہوکر) کہے گا۔
اے میرے رب !میں کیسے آپ کو کھلاتا،حا لانکہ آپ تو ساری کائنات کے پروردگار ہیں،اللہ تعالیٰ فرمائے گا،کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میرے فلاں بندہ نے تجھ سے کھانا طلب کیا تھا لیکن تونے اس کو نہیں کھلایا،کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اسے کھانا کھلاتا تو اس کھانے کو میرےیہاں پاتا،اے ابن آدم !میں تجھ سے پانی مانگا تھا مگر تونے مجھے پانی نہیں پلایا ،وہ کہے گا:اے پروردگار! میں کیسے آپ کو پانی پلاتا ،حالانکہ آپ تو ساری کائنات کے رب ہیں ،اللہ تعالیٰ فرمائے گا:میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا تھا ،لیکن تو نے اسے پانی نہیں پلایا،اگر تو اس کو پانی پلاتا تو اس پلائے ہوئے پانی کو میرے پاس پاتا‘‘(مسلم:۴۶۶۱) ، اس حدیث قدسی نے خادم قوم وملت کے جذبہ ٔ خدمت خلق میں گویا ایک روح پھونک دی ،سونچے لگے کہ کہنے والوں نے تو سچ ہی کہا ہے
’’مخلوق ِ خدا کی خدمت عبادات کی روح اور خالق تک پہنچنے کا اہم ترین ذریعہ ہے ‘‘، دیگر مصروفیات ترک کرتے ہوئے مجھے یکسو ہوکر اسی میں منہمک ہوجانا چاہئے ،چنانچہ اس کے بعد آپنے پھر کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا بلکہ خدمت خلق کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا ، مگر بعض لوگوں کے طنز و اعتراضات کی وجہ سے پست ہمتی پیدا ہونے لگی تھی ،معترضین کا کہنا تھا کہ روحانی سفر خاردار بھی ہے اور بدنام بھی اسی میں گھِر جانا گِر جانے سے کم نہیں ہے ،
اس طرح کے اعتراضات نے خادم قوم وملت کو سونچنے پر مجبور کردیا تھا اور باربار کے خیالات نے آپ کو متفکر کردیا تھا ،ایک رات اسی سوچ میں گم تھے کہ آنکھ لگ گئی اور خواب میں نبی ٔ رحمت ؐ کا دیدار نصیب ہوا ،آپ ؐ کے چہرۂ انور پر مسرت وشاد مانی کے آثار نمایاں تھے اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا کہ ’’بندگان خدا کی بے لوث خدمت مبارک ہو‘‘ صبح بیدار ہونے پر ساری الجھنیں کافور ہو گئیں، اطمینان ِقلب حاصل ہو گیا اور فولادی طاقت حاصل ہوگئی اور اس کے بعد عزم مصمم کرلیا کہ جب تک جسم میں جان رہے گی ہر حال میں خدمت خلق جاری رکھوں گا ،بلاشبہ مولانا رومی ؒ نے سچ کہا ہے کہ’’ میں نے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے بہت سے راستے دیکھے ہیں مگر سب سے آسان راستہ خلق کی خدمت کو پایا ہے ‘‘ ،اس کے بعد خادم قوم وملت یہ کہتے ہوئے خدمت خلق کے سفر پر روانہ ہو گئے کہ ؎
میری زندگی کا مقصد کہ سبھی کو فیض پہنچے
میں چراغ رہ گزر ہوں مجھے شوق سے جلاؤ
خادم قوم وملت کی جہد مسلسل اور استقامت وپائیداری دیکھئے کہ سالہا سال سے کسی ابلتے ہوئے چشمہ کی طرح خلق خدا کو مستفید کئے جارہے ہیں ،الحمد للہ اس وقت آپ کے ادارہ’’مرکز خدمت خلق حیدرآباد ‘‘ کو ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے روحانی مراکز میں مرکزیت حاصل ہے بلکہ لوگ اسے مرکز شفا سے یاد کرتے ہیں ، یہاں روزانہ تقریبا ڈیڑھ دوہزار کا مجمع ہوتا ہے ،مختلف جسمانی وروحانی امراض میں مبتلا لوگ اشک بہاتے ہوئے آتے ہیں اور مسکراتے ہوئے جاتے ہیں ،خادم قوم وملت اسے اپنا کمال نہیں بلکہ قرآن کا معجزہ قرار دیتے ہیں ،مرکز خدمت خلق حیدرآباد سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ خدمت خلق میں اتنا طویل ترین عرصہ گزارنے کے باوجود خادم قوم وملت کے عزم وحوصلہ ،استقامت واستقلال اور ثابت قدمی وپامردی میں ناخن برابر بھی کمی واقع نہیں ہوئی ہے حال یہ ہے کہ روز بروز مستفدین کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے، خادم قوم وملت خندہ پیشانی کے ساتھ ہنستے مسکراتے ہوئے دن میں دس دس گھنٹے کھڑے ہوکر خدمت خلق میں مصروف ہوتے ہیں ،ہفتہ اور اتوار مستفدین کی تعداد ڈھائی تین ہزار تک پہنچ جاتی ہے خادم قوم وملت تہجد ہی سے ان کی خدمت میں مصروف ہوجاتے ہیں ، ایک خاص بات یہ ہے کہ خادم قوم وملت سے ہر مذہب ومسلک کے لوگ رجوع ہوتے ہیں ،ایک محتاط اندازہ کے مطابق خدمت خلق کے تیس سالوں میں ایک کروڑ سے زائد افراد استفادہ کر چکے ہیں جن میں ملک وبیرون ملک کے مستفدین کی اچھی خاصی تعداد شامل ہے ۔
خادم قوم وملت کی ایک بڑی خوبییہ ہے کہ وہ بغرض علاج آنے والوں کی علاج کے ساتھ اصلاح کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ قرآنی آیات سے شفا حاصل کرنے کے لئے احکامات الٰہی اور تعلیمات نبویؐ کی پابندی بھی ضروری ہے ،کس قدر حیرت وتعجب اور بے غیرتیکی بات ہے کہ جس کے کلام سے شفا کی امید لئے بیٹھے ہیں مگر اپنی زندگی میں اسی کلام الٰہی کے احکام کی خلاف ورزی کرتے جارہے ہیں، خادم قوم وملت اپنے مستفدین سے زور دے کر یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نافرمان کو مجھ جیسے ایک کروڑ طیب ومعالج مل کر بھی بیماریسے شفا نہیں کر سکتے ،کہتے ہیں کہ شفا کا ایک ذریعہ جائز اسباب ہیں تو دوسرا ذریعہ توبہ ، رجوع الیٰ اللہ اور گناہوں سے توبہ بھی ہے،
بندہ جب سچی توبہ کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے شفا کا دروازہ کھول دیتے ہیں،خادم قوم وملت کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے ہیں بلکہ رجوع ہونے والوں کو پیغام حق وصداقت پہنچاتے رہتے ہیں ، وہ کسی سے مرعوب نہیں ہوتے ہیں ،وہ خدمت خلق کو ذریعہ معاش نہیں بناتے بلکہ ذریعہ نجات سمجھتے ہیں،عموماً روحانی معالج رجوع ہونے والوں کی نفسیات سے کھیلتے ہیں اور ان میں الجھن پیدا کرتے ہیں مگر خادم قوم وملت آنے والے مریضوں کی الجھن دور کرتے ہیں ،انہیں تسلی وتشفی کا پیغام دیتے ہیں اور اگر وہ واقعتاً کسی روحانی مرض میں مبتلا ہیں تو اس کی تفصیلات بتاکر انہیں مزید ذہنی تکلیف میں مبتلا نہیں کرتے بلکہ تدبیراپنا کر مرض دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،اگر کوئی جسمانی مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو اس پر آیا ت قرآنی دم کرتے ہوئے شفا کی امید دلاتے ہیں اور اگر کوئی شکوک وشبہات میں مبتلا ہوتے ہیں تو انکی ذہن سازی کرتے ہوئے شبہات دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شکوک وشبہات ایسا نفسیاتی مرض ہے جس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو وہ انسانی زندگی پر تیزی سے اثر انداز ہوکر اس کے چین وسکون کو برباد کرکے رکھ دیتا ہے ،عام طور سے میاں بیوی کے درمیان چھوٹی سی بات کی وجہ سے تلخی پیدا ہوجاتی ہے جس کے بعد وہ دونوں ہی ایک دوسرے پر شک کرنے لگتے ہیں خادم قوم وملت نے اپنی پُر حکمت اور پُر اثر گفتگو سے سینکڑوں گھروں کو بکھر نے سے بچایا ہے جو ٹوٹنے کے دہانے پر تھے،اسی طرح اپنی جامع اور درد میں ڈوبی ہوئی نصیحتوں سے بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو گمراہی کے دلدل سے باہر نکالا ہے جو آزاد اور دین بے زار لوگوں کی صحبتوں کی وجہ سے گمراہی کے دلدل میں پھنس چکے تھے اور جن کا ایمان خطرہ میں پڑچکا تھا۔
اس امت میں ہر زمانے اور ہر علاقع میں ایسے اشخاص موجود رہے ہیں جن کی زبانیں ذکر الٰہی، دل معرفت الٰہی اور اعضا سنت نبوی ؐ سے مزین رہتے ہیں،ان کے حلقہ ٔ ارادت میں بیٹھنے والے نکھر کر کندن بن جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں وہ مراتب عالیہ حاصل ہوجاتے ہیں جس کا ہر آدمی تصور نہیں کرسکتا ہے ، یہ لوگ روحانی امراض کے طبیب اور اخلاقی بیماریوں کے معالج ہوا کرتے ہیں ، جس طرح جسمانی امراض سے جسم کمزور ونحیف ہوجاتا ہے اسی طرح روحانی امراض سے اعمال صالحہ کی روح یعنی اخلاص کمزور پڑجاتا ہے جو درحقیقت عبادات کی اصل اور اس کی جان ہوتی ہیں ، اہل باطن دل پر محنت کرتے ہیں اور عبادات وذکر الٰہی کے ذریعہ اسے مجلّیٰ ومزکیٰ کرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے خادم قوم وملت کو ایسا دل دیا ہے جس میں اللہ والوں کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ،جہاں وہ خلق خدا سے بے پناہ محبت کرتے ہیں وہیں اہل اللہ سے خاص تعلق و الفت بھی رکھتے ہیں،وہ موقع بموقع اولیاء اللہ کی زیارتوں سے مشرف ہوتے ہیں اور اپنے مریدین ومستفدین کو ساتھ لے کر ان کے دلوں میں اولیاء اللہ کی محبت پروان چڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محبت ایک قلبی چیز ہے جس کا اظہار اطاعت سے ہی ہوسکتا ہے ،
اولیاء اللہ کی سچی محبت دراصل ان کی اطاعت میں پوشیدہ ہے،فرماتے ہیں کہ جنہیںاولیاء اللہ سے عملی محبت ہوتی ہے اسی کو معرفت الٰہی حاصل ہوتی ہے اور وہی شخص عملی غوطہ لگا کر نور الٰہی حاصل کرپاتا ہے ،خادم قوم وملت فرماتے ہیں کہ مخلوق کی خدمت کی برکت ہی سے مجھے اہل اللہ کی محبت حاصل ہوئی ہے اور خلق خدا کی خدمت ہی کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سلوک وتصوف اور پیران طریقت کے چاروں سلسلوں سے جوڑ دیا ہے ، خادم قوم وملت ان سلاسل طیبہ سے لوگوں کو جوڑ نے اور ان کے قلوب میں محبت الٰہی وتعلیمات نبوی پیدا کرنے کی غرض سے ہفتہ واری مجلس ہر اتوار بعد نماز مغرب منعقد کرتے ہیں جس میں آپ کا اصلاحی وتربیتی خطاب ہوتا ہے،مراقبہ کے ذریعہ اپنا محاسبہ کروایا جاتا ہے اور پھر ذکر جہری کے ذریعہ دل کو پاک کیا جاتا ہے ،
ان مجالس میں بھی لگ بھگ تین ہزار مرد وخواتین بڑے شوق وذوق سے شریک ہوتے ہیں،آپ کے بیان سے سامعین پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے ، دوران خطاب جب آپ شان رسالت مآب ؐ میں نعتیہ کلام پڑھتے ہیں تو سامعین جھوم اُٹھتے ہیں اور ان پر عشق وسرور کی ایک کیفیت طاری ہوجاتی ہے،سنت نبوی ؐ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں ،صورت نبی ؐ تم بنالو ،ان شاء اللہ سیرت نبوی سے اللہ تمہیں سنوار دیگا، اپنے بیانات میں عورتوں کو پردے کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو مردوں کو ڈاڑھی رکھنے کی ترغیب دلاتے ہیں جس کا اثر یہ ہے کہ آپ کے اکثر مریدین کے چہرے سنت رسول ؐ سے سجے ہوئے ہیں،آپ اکثر یہ شعر پڑھاکرتے ہیں ؎
کفن سے منہ میرا کھول کر دیکھے تو یوں کہنے لگے
ہمارے چاہنے والے کی صورت ایسی ہوتی ہے
خادم قوم وملت جہاں ایک طرف بہترین معالج ہیں تو دوسری طرف پیر طریقت ہیں وہیں تیسری طرف ملی اتحاد کے علمبردار بھی ہیں ،آپ کہتے ہیں کہ دنیا کے انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں ،ان کے درمیان انسانی رشتہ سب سے قدیم اور گہرا ہے،انسانی رشتہ کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے احترام کو ملحوظ رکھیں ، انسانوں میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جو دوسرے انسان کا احترام ملحوظ رکھتا ہے ،خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم ، اسلام انسانیت کادرس دیتا ہے اور ایک دوسرے کے احترام کی تلقین کرتا ہے ،خادم قوم وملت اپنے بیانات وتحریرات کے ذریعہ اتحاد ملت کی صدا لگاتے رہے ہیں ،اس کے لئے انہوں نے قافلہ امن کے نام سے کئی ایک قافلے بھی نکال چکے ہیں ،خادم قوم وملت اس کے ذریعہ ملک کے چپہ چپہ میں انسانی بنیادوں پر اخوت وبھائی چارگی کو فروغ دینا چاہتے ہیں ،خادم قوم وملت کے پروگراموں میں ہندو مسلم اتحاد کی خوبصورت عملی تصویریں نمایاں نظر آتی ہیں ،آپ کا نعرہ ہے ’’اتحاد زندگی انتشار موت‘‘ اور محبت میں حلاوت اور نفرت میں عداوت ‘‘۔
خادم قوم وملت نے اس قدر مصروفیات کے باوجود وقت نکال کر امت کو مختلف موضوعات پر کئی ایک اہم ترین کتابیں عنایت فرمائی ہیں جن میںدوکتابیں آپ نے اپنے پسندیدہ فن جنات ،جادو پر تصنیف فرمائی ہیں،ان میں ایک کتاب ہے’’جنات ،جادو اور نظر لگنا حقیقتیا افسانہ؟ اور دوسری کتاب ہے’’ جنات ،جادو اور اس کی پُر اسرار وادیاں‘‘، پہلی کتاب کے اردو،انگلش،ہندی اور تلگو زبان میں اب تک چھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیںاور دوسری کتاب جو اردو زبان میں شائع کی گئی ہے جو درحقیقت آپ کی طویل ترین خدمات کا نچوڑ اور حاصل ہے۔
خادم قوم وملت کے اس وقت تلنگانہ وآندھرا ،کرناٹک ومہاراشٹرا ہی نہیں بلکہ ملک وبیرون ملک لاکھوں کی تعداد میں مریدین ومستفدین موجود ہیں جواپنے مربی ومحسن کے خدمت خلق میں تیس سال کی تکمیل پر انہیں اظہار تشکر اور ہدیہ تہنیت پیش کرنا چاہتے ہیں ، چنانچہ بتاریخ۲۸؍ ڈسمبر ۲۰۲۵ ،بروز اتوار ،بعد نماز مغرب ،مرکز خدمت خلق حیدرآباد کوہ نور کالونی الکاپور روڈ نزد سات گنبد میں عظیم الشان پیمانے پر ایک تہنیتی اجلاس منعقد کیا ہے جس میں ان شاء اللہ خادم قوم وملت کو ان کے تیس سالہ طویل ترین خدمات پر تہنیت پیش کی جائے گی اور مریدین ومحبین اپنے اپنے قلبی احساسات کا اظہار کریں گے ،آپ قاری سے شرکت کی گزارش کی جاتی ہے ؎
یہی ہے عبادت یہی دین وایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں