دھوکہ دہی کرنے والے ایک گروہ کا انکشاف، دوگرفتار
ان کے قبضے سے فرضی آدھار کارڈ اور چوری شدہ موبائل برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس پوچھ گچھ میں ملزمان نے جو انکشاف کیا وہ حیران کن ہے۔
متھرا: متھرا میں تھانہ کوتوالی پولیس نے جیولرز کے ساتھ لاکھوں کی دھوکہ دہی کرنے والے ایک بین ریاستی گروہ کا انکشاف کیا ہے۔ پولیس نے پنجاب کے لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے دو ملزمان کو مال گودام روڈ سے گرفتار کیا ہے۔
ان کے قبضے سے فرضی آدھار کارڈ اور چوری شدہ موبائل برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس پوچھ گچھ میں ملزمان نے جو انکشاف کیا وہ حیران کن ہے۔ یہ گروہ پہلے موبائل فون چوری کرتا تھا۔ اس کے بعد چوری کے فون سے سم نکال کر دوسرے فون میں ڈالتے اور او ٹی پی کے ذریعے متاثرہ شخص کا گوگل پے اور پے ٹی ایم ایکٹیویٹ کر لیتے تھے۔
اکاؤنٹ ہاتھ میں آتے ہی یہ لوگ نامی گرامی جیولری شورومز پر جاتے اور سونے کے سکے و انگوٹھیاں خرید کر یو پی آئی سے ادائیگی کر دیتے تھے۔ ٹھگی کی اس کاریگری کا خمیازہ شہر کے ممتاز جیولرز کو بھگتنا پڑا۔ بدمعاشوں نے ‘گہنا جیولرز’ سے 1.04 لاکھ کے سونے کے سکے، ‘ایس ڈی جیولرز’ سے 64 ہزار کی انگوٹھی اور ‘گوئیل جیولرز’ سے 1.50 لاکھ روپے کے سونے کی خریداری کی۔
چوری کے پیسوں سے ٹرانزیکشن ہونے کی وجہ سے پولیس کی تفتیش کے بعد ان تمام تاجروں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے، جس کے بعد ہنگامہ مچ گیا۔ پکڑے گئے ملزمان کی شناخت لویش (20) اور منی سنگھ (22) کے طور پر ہوئی ہے، جو بنیادی طور پر لدھیانہ کے رہنے والے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ ملزمان شناخت چھپانے کے لیے فرضی آدھار کارڈ کا استعمال کرتے تھے۔
ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ دسمبر کے آخر میں ورنداون آئے تھے اور منظم طریقے سے فون چوری اور پھر اس سے خریداری کی وارداتوں کو انجام دے رہے تھے۔ انچارج انسپکٹر ونود بابو مشرا کی قیادت میں ٹیم نے مخبر کی اطلاع پر ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات تقریباً 12:10 بجے انہیں گرفتار لیا۔ ان کے پاس سے ویوو، ون پلس اور نوکیا کے تین موبائل فونز سمیت فرضی دستاویزات برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بھیج دیا ہے۔