مشرق وسطیٰ

جنگ بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیل کے تازہ فضائی حملے

ایک بیان میں فوج نے کہا کہ یہ حملے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی ’بار بار خلاف ورزیوں‘ کے جواب میں کیے گئے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

یروشلم: اسرائیلی فوج نے اتوار کی شب کہا کہ اس نے لبنان کے ’متعددعلاقوں‘ میں فضائی حملے شروع کر دیے ہیں، جن میں حزب اللہ کے عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے 7 لاکھ افراد کا احتجاجی مظاہرہ
غزہ میں 86 فلسطینی جاں بحق
اسرائیلی حملہ میں لبنان میں 20 اور شمالی غزہ میں 17 جاں بحق
لبنان میں نقل مقام کرنے والوں کے لئے 867مراکز کا قیام
عالمی برادری، اسرائیلی جارحیت کے خاتمہ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے: رابطہ عالم اسلامی


ایک بیان میں فوج نے کہا کہ یہ حملے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی ’بار بار خلاف ورزیوں‘ کے جواب میں کیے گئے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔


یہ حملے اتوار کے روز جنوبی لبنان میں ہوئے اسرائیلی فضائی حملوں کی دوسری سلسلہ تھے۔ لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق، اس سے قبل ہوئے حملوں میں حزب اللہ کے دو ارکان کی موت ہوئی، جبکہ دیگر مختلف اسرائیلی حملوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔


پہلی لہر کے حملوں کے بعد ایک بیان میں ، اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے جنوبی لبنان کے گاؤں ارزون میں حزب اللہ کے توپ خانے کے سربراہ محمد الحسین کو ہلاک کر دیا ۔ اسرائیل نے الحسینی پر اسرائیلی افواج کے خلاف متعدد حملوں کا منصوبہ بنانے اور ’’جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی توپ خانے کی صلاحیتوں کو بحال کرنے‘‘ کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ۔


اسرائیل لبنان پر مسلسل حملے کر رہا ہے، اسرائیل کے بقول حزب اللہ کے خطرات کو ختم کرنا ہے۔ یہ حملے 27 نومبر 2024 سے نافذ اس جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں جس میں امریکہ اور فرانس نے ثالثی کی تھی۔ لبنانی حکومت اور کئی عرب ممالک نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔