تلنگانہ

تلنگانہ پولیس کا بڑا اقدام: اب سائبر سارتھی اے آئی ایجنٹ سائبر شکایات درج کرے گا

سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہیلپ لائن پر دباؤ کو کم کرنے کے لئے تلنگانہ اسٹیٹ سائبر سیکیورٹی بیورو نے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی اے آئی پر مبنی وائس ایجنٹ سروس شروع کی گئی ہے جسے سائبر سارتھی کا نام دیا گیا ہے۔

حیدرآباد: سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ہیلپ لائن پر دباؤ کو کم کرنے کے لئے تلنگانہ اسٹیٹ سائبر سیکیورٹی بیورو نے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی اے آئی پر مبنی وائس ایجنٹ سروس شروع کی گئی ہے جسے سائبر سارتھی کا نام دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج میں مصنوعی ذہانت پر قومی سمینار
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ


عام طور پر سائبر کرائم کا شکار افراد نیشنل ہیلپ لائن نمبر 1930پر کال کرتے ہیں۔ تلنگانہ میں روزانہ اوسطاً 1,400 کالز موصول ہوتی ہیں جنہیں محض 15 افرادہینڈل کرتے ہیں۔ ایک شکایت درج کرنے میں تقریباً 20 منٹ لگتے ہیں جس کی وجہ سے متاثرین کو طویل انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اب اگر کال سنٹر کے ملازمین مصروف ہوں گے تو کال خود بخود اے آئی وائس ایجنٹ سائبر سارتھی کو منتقل ہو جائے گی۔


یہ اے آئی ایجنٹ انسانوں کی طرح بات چیت کرے گا اور متاثرہ شخص سے ضروری سوالات پوچھ کر تفصیلات جمع کرے گا۔ گفتگو مکمل ہونے کے بعد یہ سسٹم متاثرہ شخص کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجے گا تاکہ وہ بینک ٹرانزیکشن کے اسکرین شاٹس یا دیگر ڈیجیٹل ثبوت وہاں بھیج سکے۔


موصولہ معلومات کی بنیاد پر یہ خودکار طریقہ سے شکایت درج کر لے گا جس سے وقت کی بچت ہوگی اور مجرموں کے خلاف کارروائی تیز ہو سکے گی۔


سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے چیلنجس سے نمٹنے کے لئے یہ ٹکنالوجی ایک سنگ میل ثابت ہوگی کیونکہ اب متاثرین کو اپنی شکایت درج کروانے کے لئے گھنٹوں انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔