حیدرآباد

جی ایچ ایم سی تین حصوں میں تقسیم، نئے میونسپل کارپوریشنز قائم، کمشنروں کے تقررات

تلنگانہ حکومت نے انتظامی سہولت، بہتر نظم و نسق اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے مقصد سے گریٹر حیدرآباد کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے ساتھ ساتھ دو نئے میونسپل کارپوریشنز قائم کر دیے گئے ہیں، جن میں سائبر آباد میونسپل کارپوریشن اور ملکاجگری میونسپل کارپوریشن شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں
عوامی اپیلوں کا فوری حل: کمشنر بلدیہ ڈاکٹر اشونی تاناجی وکڑے کی کوششیں
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر

حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق تینوں میونسپل کارپوریشنز کے لیے کمشنروں کا تقرر بھی کر دیا گیا ہے۔ آر وی کرنن گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے طور پر برقرار رہیں گے، جبکہ Srijana کو سائبر آباد میونسپل کارپوریشن کا کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ونئے کرشنا ریڈی کو ملکاجگری میونسپل کارپوریشن کا نیا کمشنر نامزد کیا گیا ہے۔

انتظامی ڈھانچے میں اس بڑی تبدیلی کے تحت پرانے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں موجود 150 ڈیویژنوں کی نئی حد بندی کی گئی ہے، جس کے بعد ان کی تعداد بڑھ کر 243 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ضم شدہ بلدیات اور کارپوریشنوں کے حدود میں مزید 57 نئے ڈیویژن تشکیل دیے گئے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 300 ڈیویژنوں پر مشتمل وسیع شہری علاقہ اب بہتر نظم و نسق کے لیے تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے یہ اہم قدم گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1955 کے سیکشن 3(1) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اٹھایا ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے شہری ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، بلدیاتی خدمات بہتر ہوں گی اور عوامی مسائل کے فوری حل میں مدد ملے گی۔

شہر کے انتظامی ڈھانچے میں یہ بڑی تبدیلی حیدرآباد کی تیز رفتار توسیع کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے، جس سے توقع ہے کہ شہری سہولتوں کی فراہمی مزید مؤثر اور عوام دوست بنے گی۔