ایشیاء

عمران خان کیخلاف غیر ضمانتی گرفتاری وارنٹ جاری

اے ٹی ایس نے منگل کو سابق وزیراعظم خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے پی ٹی آئی رہنماؤں میں حماد اظہر، میاں اسلم اقبال اور دیگر شامل ہیں۔

لاہور: لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
خط اعتماد چرانے والوں پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے: عمران خان
بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کی سزا کو مزید سخت بنایا گیا: ہائیکورٹ
پاکستان اصل مسئلہ نہیں: غلام نبی آزاد
آخر پاکستان پر بات کیوں ہورہی ہے جب انتخابات ہندوستان میں ہورہے ہیں:پرینکا
امریکہ کا عمران خان اور دیگر قیدیوں کی حفاظت پر اظہارِ تشویش

اے ٹی ایس نے منگل کو سابق وزیراعظم خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے پی ٹی آئی رہنماؤں میں حماد اظہر، میاں اسلم اقبال اور دیگر شامل ہیں۔

موصولہ اطالعات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج عبیر گل خان نے گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پارٹی کے چھ دیگر رہنماؤں کے خلاف آتشزدگی کے دو مقدمات میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ پولیس ان مقدمات میں عمران کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر سکتی ہے۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر سابق وزیراعظم اور ان کی جماعت کے دیگر رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں۔

اے ٹی سی نے سابق وزیر اعظم خان کے خلاف 9 مئی کے تشدد کے دوران آتشزدگی سے متعلق دو مقدمات میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ بدعنوانی کے ایک معاملے میں ان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو تشدد پھوٹ پڑا۔

 لاہور پولیس نے 10 مئی کو لاہور کے نصیر آباد اور ماڈل ٹاؤن تھانوں میں مسٹر خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے پارٹی دفتر اور کنٹینر پر حملے کے الزام میں دو ایف آئی آر درج کی تھیں۔

گزشتہ سال اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے معزول وزیر اعظم کے خلاف دہشت گردی سے لے کر بدعنوانی تک کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔

9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم کی گرفتاری کے بعد شروع ہونے والے فسادات کے بعد پارٹی کے صدر سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں پر بھی دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔