آندھرا میں آبی منصوبوں کا سنہری دور: 18 ماہ میں اربوں کے فنڈز، کسانوں کے لئے بڑی خوشخبری
آندھرا پردیش میں آبپاشی کے منصوبوں کے لئے ایک بار پھر سنہری دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ این ڈی اے حکومت نے اپنے پہلے 18 ماہ کے دوران ہی آبپاشی کے شعبہ پر 23,793 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ حکومت کا بنیادی نشانہ ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنا ہے جو کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ فراہم کر سکیں۔
حیدرآباد: آندھرا پردیش میں آبپاشی کے منصوبوں کے لئے ایک بار پھر سنہری دور کا آغاز ہو گیا ہے۔ این ڈی اے حکومت نے اپنے پہلے 18 ماہ کے دوران ہی آبپاشی کے شعبہ پر 23,793 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ حکومت کا بنیادی نشانہ ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنا ہے جو کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ فراہم کر سکیں۔
گزشتہ وائی ایس آر سی پی حکومت محکمہ آبی وسائل میں تقریباً 18,000 کروڑ روپے کے بلز زیر التوا چھوڑ گئی تھی۔ موجودہ حکومت ان بلوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لا رہی ہے۔ یاد رہے کہ 2014-19 کے دوران ریاست میں آبپاشی کے لئے تقریباً 50,000 کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے اور اب دوبارہ اسی رفتار سے کام شروع ہو چکا ہے۔
رائل سیما کے اضلاع کے لئے نبض سمجھے جانے والے ہندری نیوا کنال کی صلاحیت 2,200 کیوسک سے بڑھا کر 3,850 کیوسک کر دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لئے 3,500 کروڑ روپے خرچ کئے گئے جس کے نتیجہ میں اس سال رائل سیما کو 43 ٹی ایم سی سے زیادہ پانی فراہم کیا گیا اور تاریخ میں پہلی بار کُپم علاقہ تک پانی پہنچایا گیا۔
ولی گنڈہ منصوبہ کے پہلے مرحلہ کی تکمیل کے لئے تعمیراتی کاموں پر 2,000 کروڑ اور بحالی آراینڈ آر کے لئے 1,000 کروڑ روپے درکار ہیں۔ حکومت نے اب تک 571 کروڑ روپے خرچ کر کے ٹنل لائیننگ اور فیڈر کنال کی مرمت کے کاموں میں تیزی لائی ہے۔
پولاورم لفٹ کینال (بائیں نہر) کے کام جو گزشتہ حکومت میں تعطل کا شکار تھے، اب 1,226 کروڑ روپے کے ٹنڈرس کے ذریعہ دوبارہ شروع کر دیئے گئے ہیں۔ اب تک 900 کروڑ روپے مالیت کے کام مکمل ہو چکے ہیں۔
اگست 2024 میں تنگا بھدرا پروجیکٹ کا 19واں گیٹ بہہ جانے کے بعد، حکومت نے ماہرین اور جندال گروپ کے تعاون سے جنگی بنیادوں پر اسٹاپ لاگ گیٹ نصب کر کے پانی کے ضیاع کو روکا۔ اس کے علاوہ، پرانے ہو چکے 33 گیٹوں کی تبدیلی کے لئے 55 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔