قومی

حکومت کسانوں سے کیا گیا وعدہ نبھانا نہیں چاہتی : راہل

کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت نے کسانوں سے فصل کی لاگت کے ساتھ مزید 50 فیصد دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت وعدہ نبھانا نہیں چاہتی ہے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ حکومت نے کسانوں سے فصل کی لاگت کے ساتھ مزید 50 فیصد دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت وعدہ نبھانا نہیں چاہتی ہے۔

متعلقہ خبریں
مودی دور میں سرمایہ کاری اور عام کھپت کا ڈبل انجن پٹری سے اتر گیا: کانگریس
ہندوستان ایک ملک ایک سول کوڈ کی طرف بڑھ رہا ہے: نریندر مودی (ویڈیو)
گوالیار کی شاہی ریاست نے انگریزوں کی حمایت کی تھی:پون کھیڑا
دہشت گردی پر دُہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں، برکس چوٹی کانفرنس سے مودی کا خطاب
ٹاملناڈو ٹرین حادثہ، مرکز پر راہول گاندھی کی تنقید

مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس’ پر ہفتہ کو لکھا کہ”لوک سبھا میں میں نے حکومت سے براہ راست سوال پوچھا تھا کہ 2021 میں کسانوں سے کیا گیا فصل کی لاگت کے ساتھ 50 فیصد قانونی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا وعدہ اب تک پورا کیوں نہیں ہوا۔ حکومت نے جواب دینے سے بچتے ہوئے صرف اپنی پرانی ایم ایس پی پالیسی دہرا دی۔”

انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے ریاستوں پر ایم ایس پی بونس ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جسے بغیر کسی منطق کے ‘قومی ترجیحات’ کے نام پر درست ٹھہرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی ایک اور سنگین سوال ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں ‘غیر ٹیرف رکاوٹیں’ کم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

کیا اس کا مطلب ایم ایس پی اور سرکاری خریداری کو کمزور کرنا ہے؟ حکومت اس سوال سے بھی بچ رہی ہے۔

کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کسانوں سے کیا گیا وعدہ تو نبھانا نہیں چاہتی، اپنے مفاد کے لیے وہ ہندوستانی زراعت کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسانوں کے حقوق اور ایم ایس پی کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آواز اٹھاتے رہیں گے۔