قومی

گوکل ڈیری میں سرکاری نامزدگیاں،فیصلہ سپریم کورٹ میں چیالنج کیاجائیگا: راہول گاندھی

کانگریس قائد راہول گاندھی نے جمعرات کے روز مہاراشٹر حکومت کے گوکُل ڈیری میں حکومت کی جانب سے نامزد ارکان کی تقرری کے فیصلے پر بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) کانگریس قائد راہول گاندھی نے جمعرات کے روز مہاراشٹر حکومت کے گوکُل ڈیری میں حکومت کی جانب سے نامزد ارکان کی تقرری کے فیصلے پر بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے ووٹوں کی چوری اور عوامی مینڈیٹ میں ملاوٹ کے مترادف ہے۔لوک سبھا میں قائد اپوزیشن نے کہا کہ گوکُل ڈیری کے انتخابات میں دودھ پیدا کرنے والے کسانوں نے بی جے پی کو شکست دی، جس کے بعد اس نے انتخابی نتائج کے بعد قواعد میں تبدیلی کردی۔ اس نے چار ڈائریکٹرس کو نامزد کرکے اپنی تعداد 12 سے بڑھا کر 16 کرلی اور اس طرح اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہندی میں اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے ووٹوں کی چوری اور انتخابی مینڈیٹ میں ملاوٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اقتدار بچانے کے لیے اس قدر بے چین ہوچکی ہے کہ ہر جگہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ کسانوں کے ووٹ چرانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ کسان یہ بات کبھی نہیں بھولتے۔

راہول گاندھی نے کانگریس کے شعبہ میڈیا و تشہیر کے سربراہ پون کھیڑا کی پوسٹ بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ مہاراشٹر حکومت قانون میں تبدیلیوں کے ذریعے گوکُل ملک فیڈریشن کے منتخبہ بورڈ کی تشکیل میں ردوبدل کرتے ہوئے دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے جمہوری مینڈیٹ کو کھلے عام سبوتاج کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ 19 اکتوبر کو منعقدہ انتخابات میں کانگریس کی قیادت والے پینل نے 25 میں سے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے مہایوتی اتحاد کی 12 نشستوں کے مقابلے میں اکثریت حاصل کی تھی۔ مہایوتی کے حمایت یافتہ ڈائریکٹرس کی جانب سے غیر حاضر رہنے کے باعث چیئرمین کا انتخاب تعطل کا شکار ہوگیا تھا، جس کے بعد بمبئی ہائی کورٹ نے 10 نومبر کو دوبارہ انتخاب کرانے کی ہدایت دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ منتخبہ بورڈ کو کام کرنے کا موقع دینے کے بجائے ریاستی کابینہ نے چار سرکاری ڈائریکٹرس کو نامزد کرنے کی تجویز منظور کرلی ہے، جنہیں ووٹنگ کا حق بھی حاصل ہوگا۔ اس سے انتخابی اعداد و شمار میں تبدیلی اور دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے مینڈیٹ کو پلٹنے کا امکان ہے۔ کھیڑا نے سوال کیا کہ کیا کوئی حکومت محض انتخابی نتائج پسند نہ آنے پر انتخابات کے بعد قواعد تبدیل کرسکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جمہوری مینڈیٹ اور کوآپریٹیو اداروں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جارہا ہے۔

مہاراشٹر کابینہ نے چہارشنبہ کے روز ان کوآپریٹیو اداروں کی انتظامی کمیٹیوں میں حکومت کی جانب سے 5 ارکان نامزد کرنے کی منظوری دی تھی، جن کا سالانہ کاروبار 500 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ تاہم، اس فیصلے سے ضلع مرکزی کوآپریٹیو بینکوں کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں سے 4 نامزد ارکان کو بورڈ آف ڈائریکٹرس میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا۔