مشرقِ وسطیٰ میں ایک ہزار بحری جہازوں کا جی پی ایس نظام متاثر
بتایا جاتا ہے کہ United States اور Israel کی جانب سے Iran پر حملوں کے آغاز کے بعد اس خطے میں سیٹلائٹ سگنلز کے جام ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
دبئی : بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں موجود مال بردار جہازوں، آئل ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کی کارکردگی شدید متاثر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی جہازوں کے لیے اپنی درست پوزیشن کا تعین کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق Persian Gulf اور Gulf of Oman میں تقریباً ایک ہزار بحری جہاز سیٹلائٹ نیویگیشن سگنلز میں رکاوٹ کے باعث اپنے مقام کا تعین کرنے سے قاصر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ United States اور Israel کی جانب سے Iran پر حملوں کے آغاز کے بعد اس خطے میں سیٹلائٹ سگنلز کے جام ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
انرجی مارکیٹ انٹیلی جنس فرم Kpler کے سینئر رسک اور کمپلائنس تجزیہ کار Dimitris Emptzidis نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ جہازوں کی تعداد خطے میں موجود تقریباً نصف جہازوں کے برابر ہے، جن میں سے زیادہ تر United Arab Emirates اور Oman کے ساحلی علاقوں سے کچھ فاصلے پر موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم دراصل مصنوعی سیاروں کے ایک ایسے نیٹ ورک پر مشتمل ہوتا ہے جو مسلسل زمین کی طرف سگنل بھیجتا رہتا ہے۔ جہازوں یا دیگر آلات میں نصب ریسیور ان سگنلز کو حاصل کر کے وقت اور فاصلے کے حساب سے اپنے درست جغرافیائی مقام کا تعین کرتے ہیں۔ تاہم اگر یہ سگنلز جام ہو جائیں یا ان میں خلل پیدا ہو جائے تو جہازوں کے لیے اپنی پوزیشن معلوم کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، جس سے سمندری نقل و حمل اور عالمی تجارت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے