مشرق وسطیٰ

ایران جنگ جاری رہی تو پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات بند ہوسکتی ہیں: قطر کی وارننگ

اگر خطے میں جنگ کے باعث تیل اور گیس کی پیداوار یا ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

دوحہ : قطر نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ کا سلسلہ جاری رہا تو خلیجی ریاستیں چند ہفتوں کے اندر پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات بند کرنے پر مجبور ہوسکتی ہیں، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

قطر کے وزیرِ توانائی اور قطر انرجی کے سربراہ سعد الکعبی نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ خلیج کے ممالک عالمی توانائی منڈی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر خطے میں جنگ کے باعث تیل اور گیس کی پیداوار یا ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

سعد الکعبی نے خبردار کیا کہ اگر خلیجی ممالک نے تیل کی پیداوار یا برآمدات بند کردیں تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تیزی سے بڑھ سکتی ہے اور یہ 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس صورتِ حال سے نہ صرف توانائی کی منڈی بلکہ دنیا بھر کی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہو جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ فوری طور پر ختم بھی ہوجائے تب بھی توانائی کے شعبے کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔ خاص طور پر قطر کے دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) منصوبے کو دوبارہ مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے میں کئی ماہ درکار ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی حالات میں ترسیل کے نظام، بندرگاہوں اور شپنگ روٹس پر اثر پڑتا ہے جس کے باعث توانائی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔

قطری وزیر توانائی نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر تنازع طویل ہوگیا تو اس کے اثرات عالمی تجارت، صنعتوں، توانائی کی فراہمی اور معیشتوں پر بہت گہرے ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق خلیج فارس دنیا کے تیل اور گیس کے سب سے اہم ذخائر اور سپلائی روٹس کا مرکز ہے۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی جنگ یا کشیدگی عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کو فوری طور پر متاثر کرتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کے ممالک کی معیشتوں اور عام صارفین تک پہنچتے ہیں۔