یوروپ

خلیجی تنازع نے دہشت گردوں کو اپنی صلاحیت استعمال کرنے کا موقع دیا: روسی وزارتِ خارجہ

سیفرونکوف نے خبر رساں ادارہ اسپوتنک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہاکہ "اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیج فارس میں فوجی کارروائی نہ صرف غزہ کی صورتحال اور روایتی معنوں میں مغربی ایشیا امن عمل پر، بلکہ پورے خطے کی صورتحال پر بھی انتہائی منفی اثر ڈال رہی ہے۔

ماسکو: روسی وزیرِ خارجہ کے مغربی ایشیائی امن عمل کے خصوصی نمائندے ولادیمیر سیفرونکوف نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں فوجی کارروائی دہشت گرد گروہوں کو خطے اور اس سے آگے عدم استحکام پھیلانے کی اپنی صلاحیت استعمال کرنے کا موقع دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
ایران عالمِ اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے صیہونی صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں
روسی صدر کی مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے میں مدد کی پیشکش
ملک میں روس جیسی آمرانہ صورتحال: کجریوال
ڈاکٹر مہدی کا محکمہ ثقافتی ورثہ و آثار قدیمہ تلنگانہ کا دورہ، مخطوطات کے تحفظ کے لیے ایران سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
ایران میں زہریلی شراب پینے سے مہلوکین کی تعداد 26ہوگئی


سیفرونکوف نے خبر رساں ادارہ اسپوتنک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہاکہ "اس میں کوئی شک نہیں کہ خلیج فارس میں فوجی کارروائی نہ صرف غزہ کی صورتحال اور روایتی معنوں میں مغربی ایشیا امن عمل پر، بلکہ پورے خطے کی صورتحال پر بھی انتہائی منفی اثر ڈال رہی ہے۔

یہ توجہ اور وسائل کو بھٹکاتی ہے، جذبات کو بھڑکاتی ہے، اور ان لوگوں کو بہانہ فراہم کرتی ہے جو مغربی ایشیا اور اس سے آگے استحکام کو کمزور کرنے کے لیے دہشت گردی کے ہتھیار استعمال کرنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں۔”


انہوں نے مزید کہاکہ”فیصلے کرنے اور ان کے نتائج کے لیے سیاسی ذمہ داری کو کسی کو نہیں بھولنا چاہیے۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کرنے کی کیا ضرورت تھی، جو ثالثوں کے مطابق ایک ٹھوس سیاسی نتیجے کے قریب تھے؟”


قابلِ ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں متعدد ٹھکانوں پر حملے شروع کیے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی علاقے کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیا میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر بھی حملے کررہا ہے۔