قومی

گیان واپی، شاہی عیدگاہ اور سنبھل جامع مسجد تنازعات: ہندو اور مسلم فریقین نے سپریم کورٹ کی ثالثی کی تجویز مسترد کر دی

اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ انتظامیہ نے حال ہی میں ان مقدمات کے تمام فریقین کو خطوط ارسال کیے تھے، جن میں "سپریم کورٹ ایکشن فار میڈی ایٹڈ ایڈجوڈیکیشن اینڈ ڈسپیوٹس ہارمونائزیشن اکراس نیشن (سمادھان سماروہ-2026)" کے تحت تنازعات کو باہمی رضامندی سے حل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

نئی دہلی: وارانسی کی گیان واپی مسجد، متھرا کے شری کرشن جنم بھومی–شاہی عیدگاہ اور اتر پردیش کے سنبھل جامع مسجد سے متعلق جاری عدالتی تنازعات میں ہندو اور مسلم، دونوں فریقین نے سپریم کورٹ کی جانب سے ثالثی (میڈی ایشن) کے ذریعے معاملات حل کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

دونوں فریقوں کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات نہایت حساس مذہبی، قانونی اور آئینی نوعیت کے ہیں، اس لیے ان کا فیصلہ صرف عدالت میں قانونی کارروائی کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ تنازعات محض چند عبادت گاہوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں مذہبی برادریوں کے جذبات اور حقوق سے جڑے ہوئے ہیں، لہٰذا انہیں باہمی مفاہمت یا ثالثی کے ذریعے حل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ انتظامیہ نے حال ہی میں ان مقدمات کے تمام فریقین کو خطوط ارسال کیے تھے، جن میں "سپریم کورٹ ایکشن فار میڈی ایٹڈ ایڈجوڈیکیشن اینڈ ڈسپیوٹس ہارمونائزیشن اکراس نیشن (سمادھان سماروہ-2026)” کے تحت تنازعات کو باہمی رضامندی سے حل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

اس منصوبے کے تحت 21 سے 23 اگست کے درمیان منعقد ہونے والی خصوصی لوک عدالت میں ان مقدمات کے تصفیے کی کوشش کی جانی تھی، تاہم ہندو فریق کے درخواست گزاروں اور تینوں مساجد کی انتظامی کمیٹیوں نے سپریم کورٹ اور متعلقہ ریاستی و ضلعی قانونی خدماتی اداروں کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے کہ وہ اس ثالثی عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔

مقدمات سے وابستہ وکلاء اور درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ عبادت گاہوں کی ملکیت، آئینی حقوق اور عوامی مفاد جیسے اہم قانونی معاملات کا فیصلہ صرف عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق ایسے حساس تنازعات کو لوک عدالت یا ثالثی کے ذریعے نمٹانا مناسب نہیں ہوگا۔

دوسری جانب مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کے نمائندوں نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ تنازعات کے پرامن اور قانونی حل کے حامی ہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ ان مقدمات کا حتمی فیصلہ صرف عدالت ہی کرے، نہ کہ ثالثی یا مفاہمتی عمل کے ذریعے۔

اس پیش رفت کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ تینوں اہم مذہبی مقامات سے متعلق جاری قانونی تنازعات کا فیصلہ اب معمول کی عدالتی کارروائی کے تحت ہی آگے بڑھے گا۔