ایس آئی آر مہم پر سوالات، ووٹرس نے آدھار کی لازمی شرط اور طریقۂ کار پراُٹھائے اعتراضات
ووٹروں کے مطابق آن لائن اینیومریشن فارم جمع کراتے وقت اگر آدھار کارڈ میں درج نام، والد یا والدہ کا نام یا دیگر تفصیلات ووٹر شناختی کارڈ (EPIC) سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تو سسٹم درخواست قبول نہیں کرتا، جس کے باعث متعدد شہریوں کو فارم جمع کرانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
حیدرآباد: الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کی جانب سے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم کے دوران متعدد ووٹروں نے طریقۂ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے بے ضابطگیوں اور دوہرے معیار کے الزامات عائد کیے ہیں۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ الیکشن کمیشن آدھار نمبر کو اختیاری قرار دیتا ہے، لیکن عملی طور پر کئی مقامات پر اسے لازمی دستاویز کے طور پر طلب کیا جا رہا ہے۔
ووٹروں کے مطابق آن لائن اینیومریشن فارم جمع کراتے وقت اگر آدھار کارڈ میں درج نام، والد یا والدہ کا نام یا دیگر تفصیلات ووٹر شناختی کارڈ (EPIC) سے مطابقت نہ رکھتی ہوں تو سسٹم درخواست قبول نہیں کرتا، جس کے باعث متعدد شہریوں کو فارم جمع کرانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اسی طرح مختلف علاقوں سے یہ شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ بوتھ لیول آفیسرز (BLOs) گھر گھر سروے کے دوران آدھار کارڈ دیکھے بغیر فارم وصول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہدایات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
متاثرہ ووٹروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف الیکشن کمیشن سرکاری طور پر آدھار نمبر کو اختیاری قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب زمینی سطح پر اس پر عمل درآمد مختلف انداز میں کیا جا رہا ہے، جس سے عوام میں الجھن اور بے یقینی پیدا ہو رہی ہے۔
شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس عمل میں مکمل احتیاط نہ برتی گئی تو حقیقی اور اہل ووٹرز بھی ووٹر لسٹ سے خارج ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوت شدہ افراد یا ڈپلیکیٹ ووٹوں کو فہرست سے حذف کرنا ضروری ہے، تاہم کسی بھی اہل ووٹر کا نام غلطی سے خارج ہونا جمہوری عمل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا کا مؤقف ہے کہ آدھار نمبر فراہم کرنا مکمل طور پر اختیاری ہے اور صرف آدھار نہ دینے کی بنیاد پر کسی ووٹر کی درخواست مسترد نہیں کی جانی چاہیے۔
کمیشن نے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم کے دوران کسی قسم کی دشواری یا شکایت کا سامنا ہو تو وہ الیکشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ سے رہنمائی حاصل کریں یا 1950 ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔
تاہم بعض شہریوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے متعدد مرتبہ 1950 ہیلپ لائن پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں بروقت جواب یا مطلوبہ رہنمائی نہیں مل سکی۔
اس خبر میں بیان کیے گئے بعض الزامات ووٹروں کی شکایات اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا سرکاری مؤقف یہی ہے کہ آدھار نمبر فراہم کرنا اختیاری ہے اور اس کے بغیر صرف اسی بنیاد پر درخواست مسترد نہیں کی جانی چاہیے۔