تلنگانہآندھراپردیش

تلنگانہ اوراے پی میں مارچ کے آغاز میں ہی گرمی کی شدت میں اضافہ

محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ کے دوسرے ہفتہ سے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کا امکان ہے، خاص طور پر گوداوری اضلاع، کرشنا، گنٹور اور سریکاکولم میں تپش شدید رہے گی۔ کونسل آف انرجی انوائرمنٹ اینڈ واٹر کے ماہرین نے ان علاقوں کو ہائی رسک زون قرار دیا ہے۔

حیدرآباد: دونوں تلگوریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سورج کی تپش نے ابھی سے عوام کو بے حال کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
گرمی کی لہر: تعلیمی اداروں کو 18 جون تک بند رکھنے کی ہدایت
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
محبوب نگر میں جامع مسجد میں دعوتِ افطار، مسلم کارپوریٹرس کی تہنیتی تقریب میں رکن اسمبلی اینم سرینواس ریڈی کی شرکت
حضرت امام حسنؓ کا اسوۂ حسنہ آج بھی امت کے لیے مشعلِ راہ،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

مارچ کے آغاز میں ہی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس کے پیش نظر محکمہ موسمیات نے لو کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ دونوں تلگو ریاستوں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ہے اور کئی مقامات پر درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے۔


محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ کے دوسرے ہفتہ سے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کا امکان ہے، خاص طور پر گوداوری اضلاع، کرشنا، گنٹور اور سریکاکولم میں تپش شدید رہے گی۔ کونسل آف انرجی انوائرمنٹ اینڈ واٹر کے ماہرین نے ان علاقوں کو ہائی رسک زون قرار دیا ہے۔


دن کے ساتھ ساتھ رات کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس پر ماہرین صحت نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔