تلنگانہ

تلنگانہ میں جماعت اول میں داخلے کی عمر پر تذبذب برقرار، مرکزی حکومت کی چھ سالہ شرط پر فیصلہ باقی

محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق اگر یکساں عمر کا معیار اختیار نہ کیا گیا تو مستقبل میں طلبہ کو نیٹ، جے ای ای ایڈوانسڈ، این ڈی اے جیسے مسابقتی امتحانات میں اہلیت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اگر ان امتحانات کے لیے کم از کم عمر کی شرط میں تبدیلی کی گئی۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں اسکولوں میں جماعت اول میں داخلے کے لیے عمر کی حد کو لے کر تاحال غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ریاستی حکومت یہ طے نہیں کر پائی ہے کہ موجودہ پانچ سالہ کم از کم عمر کی شرط کو جاری رکھا جائے یا پھر مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ چھ سالہ عمر کی حد کو نافذ کیا جائے۔ اسی وجہ سے والدین، طلبہ اور تعلیمی اداروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
گورنمنٹ میڈیکل کالج میدک میں قومی کوٹہ سے 4طلبہ کو داخلہ
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

مرکزی وزارتِ تعلیم نے حال ہی میں تلنگانہ حکومت کو ایک بار پھر یاد دہانی کروائی ہے کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے تحت جماعت اول میں داخلے کے لیے بچوں کی کم از کم عمر چھ سال ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے مطابق ملک بھر میں 5-3-3-4 تعلیمی ڈھانچہ متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ابتدائی پانچ سال کو بنیادی مرحلہ قرار دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں تین سال پری پرائمری تعلیم کے بعد جماعت اول اور دوم شامل ہیں۔ اسی ڈھانچے کے تحت مرکزی حکومت نے 9 فروری 2023 کو یہ ہدایت جاری کی تھی کہ جماعت اول میں داخلے کے لیے بچے کی عمر کم از کم چھ سال ہونی چاہیے۔ تاہم تلنگانہ اب بھی روایتی 10-2-3 تعلیمی نظام پر عمل پیرا ہے۔

اگرچہ ملک کی بیشتر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اس ضابطے کو نافذ کر دیا ہے، لیکن تلنگانہ کے ساتھ کیرالا، تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور چھتیس گڑھ میں اس پر مکمل عمل درآمد ابھی باقی ہے۔ تلنگانہ ایجوکیشن کمیشن نے بھی حکومت کو سفارش کی ہے کہ جماعت اول کے لیے چھ سال کی عمر کی شرط اپنائی جائے۔

کمیشن کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ خاکے کے مطابق تین سال سے زائد عمر کے بچوں کو نرسری، چار سال سے زائد کو ایل کے جی، پانچ سال سے زائد کو یو کے جی اور چھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو جماعت اول میں داخلہ دیا جائے۔ تاہم ریاستی حکومت نے اس تجویز پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے۔

حکومتی تاخیر کے باعث ریاست میں داخلوں کا نظام غیر یکساں ہو گیا ہے۔ سی بی ایس ای، آئی سی ایس ای اور آئی بی سے وابستہ نجی اسکول چھ سالہ عمر کی شرط پر عمل کر رہے ہیں، جبکہ ریاستی بورڈ کے اسکول اب بھی پانچ سال کی حد کے تحت داخلے دے رہے ہیں۔

محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق اگر یکساں عمر کا معیار اختیار نہ کیا گیا تو مستقبل میں طلبہ کو نیٹ، جے ای ای ایڈوانسڈ، این ڈی اے جیسے مسابقتی امتحانات میں اہلیت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اگر ان امتحانات کے لیے کم از کم عمر کی شرط میں تبدیلی کی گئی۔

اس کے علاوہ، ایسے طلبہ جن کے والدین کی ملازمتیں قابلِ تبادلہ ہیں، انہیں بین الریاستی نقل مکانی کے دوران مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ دوسری ریاستوں میں داخلے کے وقت انہیں عمر کے فرق کی وجہ سے ایک جماعت دوبارہ پڑھنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے تاکہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے مطابق تعلیمی ڈھانچے سے ہم آہنگ ہو سکیں۔