تلنگانہ

تلنگانہ کے ضلع ملگ میں ہائی الرٹ۔ ماؤ نواز لیڈر چُکاراؤ کے چھپے ہونے کی اطلاع پر جنگل میں تلاشی مہم

سرحدی علاقوں میں پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے اور مشتبہ مقامات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز تنظیم کے بعض اہم پروگراموں یا میٹنگوں کے سلسلہ میں یہ نقل و حرکت ہو رہی ہے جس کے پیش نظر پولیس کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ اور چھتیس گڑھ کی سرحدی پٹی پر واقع ملگ ضلع کے جنگلات میں اچانک کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
چھتیس گڑھ کے بیجاپور میں سکیورٹی فورسز اور نکسلیوں کے درمیان مڈبھیڑ، چار کے مارے جانے کی اطلاع
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں

اطلاعات کے مطابق ممنوعہ ماؤ نواز تنظیم کے اہم لیڈر چکاراو عرف دامودر کی اپنے دستہ کے ساتھ میڈارم کے جنگلاتی علاقوں میں چھپے رہنے کی خبروں نے پولیس اور سیکورٹی فورسس کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

ریاستی انٹیلیجنس اور مقامی پولیس ذرائع کو اطلاع ملی ہے کہ ماؤ نوازوں کی تلنگانہ اسٹیٹ کمیٹی کے اہم رکن چکا راؤ اور ان کے ساتھیوں نے میڈارم کے گھنے جنگلات میں پناہ لی ہے۔ اس اطلاع کے بعد ملگ ضلع کی پولیس اور گرے ہاؤنڈس کے دستوں نے جنگلاتی علاقوں میں بڑے پیمانہ پر تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔


سرحدی علاقوں میں پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے اور مشتبہ مقامات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز تنظیم کے بعض اہم پروگراموں یا میٹنگوں کے سلسلہ میں یہ نقل و حرکت ہو رہی ہے جس کے پیش نظر پولیس کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔

ضلع ملگ اور چھتیس گڑھ کی سرحدوں پر پولیس اور ماؤ نوازوں کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشہ نے مقامی بستیوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ پولیس نے جنگل سے ملحقہ دیہاتوں کے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ نامعلوم افراد کی نقل و حرکت کی فوری اطلاع دیں اور جنگل کے اندرونی حصوں میں جانے سے گریز کریں۔


واضح رہے کہ چکا راؤ طویل عرصہ سے پولیس کی ہٹ لسٹ پر ہے اور اس کی گرفتاری یا موجودگی کی اطلاع کو پولیس ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ فی الحال پورے سرحدی علاقے میں ہائی ٹینشن کی صورتحال برقرار ہے۔