عدالتی احکامات کے باوجود حیدرآباد میں انہدامی کارروائی پر ہائی کورٹ کا اظہارِ برہمی، حائیڈرا حکام کو طلب کیا گیا
تلنگانہ ہائی کورٹ نے سابقہ عبوری احکامات کے باوجود حائیڈرا کی جانب سے انہدامی کارروائی کیے جانے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب عدالت کی جانب سے پہلے ہی عبوری احکامات جاری کیے جاچکے تھے تو اس کے باوجود انہدامی کارروائی کیسے کی گئی۔
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے سابقہ عبوری احکامات کے باوجود حائیڈرا کی جانب سے انہدامی کارروائی کیے جانے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب عدالت کی جانب سے پہلے ہی عبوری احکامات جاری کیے جاچکے تھے تو اس کے باوجود انہدامی کارروائی کیسے کی گئی۔
یہ معاملہ وانی کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرین کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ درخواست گزاروں نے ضلع میڑچل-ملکاجگیری میں واقع سروے نمبر 194/1 اور 211 میں موجود پلاٹوں کی حفاظتی دیوار مبینہ طور پر منہدم کیے جانے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
سماعت کے دوران جج نے حکام سے سوال کیا کہ ہائی کورٹ کے سابقہ عبوری احکامات کے باوجود حائیڈرا نے انہدامی کارروائی کس طرح انجام دی۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ حائیڈرا کے سینئر عہدیداروں نے عدالتی احکامات کے ہوتے ہوئے انہدام کی ہدایت کس بنیاد پر جاری کی۔
عدالت نے مبینہ طور پر اس کارروائی پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو یہ توہینِ عدالت کے مترادف ہوسکتی ہے۔
ہائی کورٹ نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے میڑچل-ملکاجگیری ضلع کلکٹر، تیروملگیری تحصیلدار اور ملکاجگیری تحصیلدار کو نوٹس جاری کیے ہیں۔
عدالت نے مذکورہ عہدیداروں کو 11 اگست کو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہونے اور انہدامی کارروائی سے متعلق مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
عدالت کی اس کارروائی کے بعد حائیڈرا کی انہدامی سرگرمیوں اور عدالتی احکامات کی تعمیل سے متعلق ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ معاملے کی مزید سماعت عہدیداروں کی پیشی اور ریکارڈ کی جانچ کے بعد متوقع ہے۔