او یو او روم میں خاتون کی موت، خون کے دھبے اور شراب کی بوتلیں برآمد
متوفیہ کی شناخت شارون نکھیتا کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق نکھیتا کے چہرے اور جسم پر زخموں کے علاوہ سر کے پچھلے حصے پر بھی شدید چوٹ کے نشانات پائے گئے ہیں۔ پولیس واقعہ کے حالات اور زخموں کی نوعیت کی تحقیقات کر رہی ہے۔
حیدرآباد: او یو او ہوٹل کے ایک کمرے میں خاتون کی موت کے معاملے میں پولیس کی تحقیقات کے دوران کئی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پولیس کو کمرے سے بیئر اور وہسکی کی ٹوٹی ہوئی بوتلیں ملنے کے علاوہ بستر اور دیواروں پر خون کے دھبے بھی ملے ہیں۔
متوفیہ کی شناخت شارون نکھیتا کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق نکھیتا کے چہرے اور جسم پر زخموں کے علاوہ سر کے پچھلے حصے پر بھی شدید چوٹ کے نشانات پائے گئے ہیں۔ پولیس واقعہ کے حالات اور زخموں کی نوعیت کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ہوٹل سپروائزر کے مطابق نکھیتا گزشتہ روز دوپہر تقریباً 1:48 بجے او یو او ہوٹل پہنچی تھی۔ کچھ دیر بعد سری نواس روی تیجا بھی ہوٹل پہنچا۔
سپروائزر نے پولیس کو بتایا کہ نصف شب کے قریب روی تیجا اس کے پاس آیا اور کہا کہ نکھیتا بے ہوش ہوگئی ہے۔ ہوٹل کے عملے نے اسے ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا، تاہم روی تیجا نے مبینہ طور پر ایمبولینس سے جانے سے انکار کیا اور نکھیتا کو موٹر سائیکل پر اسپتال لے گیا۔
اسپتال پہنچنے کے بعد ڈاکٹروں نے نکھیتا کو مردہ قرار دے دیا۔ اس کے بعد روی تیجا مبینہ طور پر وہاں سے فرار ہوگیا اور فی الحال پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔
پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور روی تیجا کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر کارروائی کی جارہی ہے۔ پولیس ہوٹل کے کمرے سے ملنے والے شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر معلومات کی بنیاد پر واقعہ کی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق نکھیتا اور روی تیجا کے درمیان تقریباً تین سال کا عمر کا فرق تھا اور نکھیتا کی عمر روی تیجا سے زیادہ تھی۔
نکھیتا کی موت کی اصل وجہ اور اس کے جسم پر پائے گئے زخم کس طرح آئے، اس کا حتمی تعین پولیس تحقیقات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔