تلنگانہ

پالمورو کے کسانوں کی جدوجہد رنگ لائی، جورالہ لیفٹ کینال میں پانی جاری

آبپاشی کے پانی کی قلت کے خلاف پالمورو کے کسانوں کی جدوجہد بالآخر رنگ لے آئی۔ کسانوں کی جانب سے مسلسل احتجاج اور پانی کی فوری فراہمی کے مطالبے کے بعد تلنگانہ حکومت نے جورالہ لیفٹ کینال میں پانی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پالمورو: آبپاشی کے پانی کی قلت کے خلاف پالمورو کے کسانوں کی جدوجہد بالآخر رنگ لے آئی۔ کسانوں کی جانب سے مسلسل احتجاج اور پانی کی فوری فراہمی کے مطالبے کے بعد تلنگانہ حکومت نے جورالہ لیفٹ کینال میں پانی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

علاقے میں پانی کی کمی کے باعث کھڑی فصلوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ فصلوں کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر آبپاشی کا پانی فراہم کیا جائے۔

کسانوں کے احتجاج کے درمیان بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) نے بھی ان کی حمایت میں دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ بی آر ایس کی جانب سے دھرنے کی کال اور بڑے پیمانے پر احتجاج کی تیاریوں کے بعد حکومت پر پانی کی فراہمی کے لیے دباؤ مزید بڑھ گیا۔

کسانوں کا کہنا تھا کہ اگر آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی میں مزید تاخیر ہوتی ہے تو فصلوں کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ جورالہ لیفٹ کینال کے ذریعے زرعی اراضی تک مناسب مقدار میں پانی پہنچایا جائے۔

حکومت کی جانب سے جورالہ لیفٹ کینال میں پانی جاری کرنے کے ساتھ ہی ایٹاکلہ پروجیکٹ کو بھی پانی فراہم کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے پالمورو کے ان کسانوں کو راحت ملنے کی امید ہے جو پانی کی قلت کے باعث اپنی فصلوں کو لے کر فکرمند تھے۔

کسانوں نے پانی کی فراہمی کے آغاز کا خیرمقدم کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ پانی کی سپلائی بلا رکاوٹ جاری رہنی چاہیے تاکہ تمام متاثرہ زرعی اراضی کو مطلوبہ پانی دستیاب ہوسکے۔

کسانوں کی جدوجہد اور احتجاج کے بعد حکومت کے اس اقدام کو علاقے میں آبپاشی کے بحران کے فوری حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔ کسان اب پانی کی مسلسل فراہمی اور فصلوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے مزید اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں۔