حجاب پر نیا تنازع، ڈی مارٹ میں مسلم خاتون کی تذلیل، ریپ اور مبینہ بائیکاٹ کی دھمکی
یہ معاملہ بظاہر بِلنگ لائن میں کھڑے ہونے کے دوران شروع ہوا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اسے مذہبی رنگ دے دیا گیا، جس سے ایک عام شہری کی عزت، تحفظ اور روزگار سب متاثر ہوئے۔
ممبئی کے ویرار علاقے میں واقع ڈی مارٹ میں ایک مسلم خاتون کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اب ایک بڑے سماجی اور انسانی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ معاملہ بظاہر بِلنگ لائن میں کھڑے ہونے کے دوران شروع ہوا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اسے مذہبی رنگ دے دیا گیا، جس سے ایک عام شہری کی عزت، تحفظ اور روزگار سب متاثر ہوئے۔
خاتون کے مطابق وہ بلنگ لائن میں کھڑی تھی کہ اسی دوران ایک ہندو جوڑا لائن سے آگے بڑھ گیا جب مسلم خاتون نے انہیں ٹوکا تو اس جوڑے نے نہ صرف مسلم خاتون کو برا بھلا کہا بلکہ اسے حجاب میں دیکھ کر جیسے آگ بگولا ہوگئی اور کہنے لگی تم مسلم لوگ برے ہوتے ہیں ہمارے سے دوررہو اور نازیبا زبان استعمال کرنے لگی۔
زعفرانی سیاست دانوں نے مذہب کا ایسا زہریلا رنگ گھولا ہے کہ اب عام لوگوں میں بھی یہ صاف دیکھنے میں آرہا ہے۔
جب خاتون کے شوہر نے اس رویے پر اعتراض کیا تو جھگڑا مزید بڑھ گیا۔ الزام ہے کہ مذہب کو بنیاد بنا کر توہین آمیز جملے کہے گئے اور مسلم خاتون کو ہراساں بھی کیا گیا، یہاں تک کہ اِس ہندو شخص نے سرعام مسلم خاتون کو ریپ کرنے کی دھمکیاں بھی دے دیں۔
متاثرہ خاندان نے فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن پر فون کیا، تاہم موقع پر پہنچنے والی پولیس نے نہ صرف مناسب مدد فراہم نہیں کی بلکہ شکایت درج کرنے سے بھی انکار کیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان سے مراٹھی زبان میں بات کرنے کا دباؤ ڈالا، خاتون کانسٹیبل کی موجودگی کے بغیر مرد کانسٹیبلس نے خاتون کو گھیر کر سوالات کیے اور مسلم خاتون کی شکایت سننے کے بجائے ہندو جوڑے کو وہاں سے بھگا دیا اور مسلم خاتون اور اسکے گھر والوں کو ہراساں کرنے لگے۔
مزید تشویشناک بات یہ سامنے آئی کہ بعد میں متاثرہ خاتون کے بھائی کی دکان بند کروا دی گئی اور انہیں معافی مانگنے کے لیے دباؤ ڈالا جانے لگا، حالانکہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی کوئی غلطی نہیں تھی۔
یہاں تک کہ ڈی مارٹ کے ذمہ داروں نے سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے سے بھی مبینہ طور پر انکار کردیا۔
پولیس کو چاہئے تھا کہ وہ ہندو جوڑے کو تبنیہ کرتے اور اُس ہندو شخص پوچھتے کہ اُس نے ریپ کرنے کی بات کیوں کہیں، پولیس نے تو اُس زہریلے جوڑے کو سپورٹ کررہی تھی اور اُسے وہاں سے بھیج دیا۔
اس واقعہ کے بعد جب مسلم خاتون نے سوشل میڈیا کے ذریعے مدد کی اپیل کی تو ایک مسلم سماجی گروپ آگے آیا۔ اس گروپ کی کوششوں سے بالآخر پولیس نے شکایت درج کی اور قانونی کارروائی کا آغاز ہوا۔ خاتون کو وقتی طور پر تحفظ بھی فراہم کیا گیا، جس پر متاثرہ خاندان نے اطمینان کا اظہار کیا۔
تاہم معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بعد میں یہ الزام سامنے آیا کہ ڈی مارٹ انتظامیہ نے واقعہ کے بعد مسلم شہریوں کو اسٹور میں داخل ہونے سے روکنے کی دھمکی بھی دی، جسے مقامی لوگوں نے ’’مسلم بائیکاٹ‘‘ قرار دیا۔
اس اقدام کے خلاف مسلم اور ہندو شہریوں نے مل کر ڈی مارٹ کے سامنے احتجاج کیا اور واضح کیا کہ کسی بھی مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک قابلِ قبول نہیں۔
مقامی مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان صرف ایک مذہب کا نہیں بلکہ سب کا ملک ہے، اور کسی بھی شہری کو اس کے مذہب یا لباس کی بنیاد پر ہراساں کرنا آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاتون کو مکمل انصاف دیا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو اور آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں۔
ویرار ڈی مارٹ کا یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کرتا ہے کہ کیا عام مسلمان شہری خود کو عوامی مقامات پر محفوظ محسوس کر سکتے ہیں؟
متاثرہ خاندان اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انصاف صرف قانونی کارروائی سے نہیں بلکہ سماجی رویوں کی اصلاح سے بھی جڑا ہوا ہے، اور یہی اس جدوجہد کا اصل مقصد ہے۔