گھریلو خاتون کی حادثاتی موت پر ورثا کو کتنا معاوضہ مل سکتا ہے؟
اگر کوئی حادثہ میں گھریلو خاتون کی موت واقع ہوتی ہے اور متوفی خاتون کے ورثا اگر معاوضہ کے لئے عدالت سے رجوع ہوتے ہیں تو کتنا معاوضہ مل سکتا ہے۔ گھریلو خاتون کی حادثہ میں موت پر معاوضہ طئے کرنے کا کیا پیمانہ ہوگا کیونکہ گھریلو خاتون کی آمدنی متعین نہیں ہوتی ہے اور آمدنی کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہوتا ہے۔
سوال : اگر کوئی حادثہ میں گھریلو خاتون کی موت واقع ہوتی ہے اور متوفی خاتون کے ورثا اگر معاوضہ کے لئے عدالت سے رجوع ہوتے ہیں تو کتنا معاوضہ مل سکتا ہے۔ گھریلو خاتون کی حادثہ میں موت پر معاوضہ طئے کرنے کا کیا پیمانہ ہوگا کیونکہ گھریلو خاتون کی آمدنی متعین نہیں ہوتی ہے اور آمدنی کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہوتا ہے۔
دوسرے معاملات میں انکم اور عمر کی بنیاد پر معاوضہ طئے کیاجاتا ہے تاہم گھریلو خاتون کی اگر حادثہ میں موت واقع ہوتی ہے اور جب معاوضہ کا تقاضا کیا جاتا ہے تو عدالت کس پیمانے پر معاوضہ طئے کرتی ہے۔ اس تعلق سے تھوڑی تفصیلات پیش کریں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ میرے جان پہچان میں ایک خاتون کا حادثہ میں انتقال ہوا ہے اور اس گھریلو خاتون کے معاوضہ کا معاملہ چل رہا ہے۔
جواب : دیکھئے ! اگر کوئی تنخواہ یافت ملازم ہے تو حادثہ کے معاملہ میں اس کی تنخواہ معاوضہ کے لئے بنیاد بنے گی اور اگر کوئی بزنس مین یا تاجر ہے تو وہ بزنس مین کی سالانہ آمدنی معاوضہ کے لئے بنیاد بنے گی مگر گھریلو خواتین کے معاملہ میں انکم کا کوئی پروف نہیں ہوتا ہے۔
ایسے معاملات میں اکثر ہوتا یہ تھا کہ گھریلو خاتون کو ایک اسکل لیبر کی جو منیمم انکم ہوتی ہے۔ اس کے لحاظ سے معاوضہ طئے کیا جاتا تاہم اب حالیہ دنوں میں ایسے کئی فیصلے عدالتوں نے صادر کئے ہیں کہ جس میں گھریلو خاتون کی اگر حادثہ میں موت واقع ہوتی ہے اور معاوضہ کا معاملہ عدالت تک پہنچتا ہے تو پھر ماہانہ 30 ہزار روپئے انکم متعین کی جانی چاہئے۔
30 ہزار روپئے آمدنی کو فکس کر دیا گیا ہے اور ہر تین سال میں اس میں 10 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اس طرح سے معاوضہ طئے کرنا چاہئے کیونکہ گھریلو خاتون کی انکم کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا ہے۔
اسی لئے انکم 30 ہزار روپئے متعین کرتے ہوئے ایکسیڈنٹ ٹریبونل یہ فیصلہ کرے گی کہ کتنا معاوضہ دینا چاہئے۔ اس طرح سے ایک گھریلو خاتون کی حادثہ میں موت کی صورت میں معاوضہ کے معاملات کو طئے کیا جا سکتا ہے۔