پلاٹ پر قبضے کی کوشش، خریدار پریشان؛ قانون کیا کہتا ہے؟
میں نے شمس آباد کے قریب سال 2001میں 200گز کا ایک پلاٹ خریدا تاہم ایک صاحب کچھ دنوں سے میرے پلاٹ پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ وہ اس پلاٹ کو سال 2005میں خریدے ہیں۔
سوال : میں نے شمس آباد کے قریب سال 2001میں 200گز کا ایک پلاٹ خریدا تاہم ایک صاحب کچھ دنوں سے میرے پلاٹ پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ وہ اس پلاٹ کو سال 2005میں خریدے ہیں۔
یہ معاملہ ایک ہی پلاٹ کو دو مرتبہ فروخت کرنے کا محسوس ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں مجھے کیا قانونی چارہ جوئی کرنی چاہئے۔ کیا قانونی اقدامات مجھے کرنے چاہئیں کہ جس کے تحت میری جائیداد کا تحفظ ہو سکے۔
جواب: یہ واضح طور پر ایک ہی جائیداد کو دو مرتبہ فروخت کا معاملہ نظر آرہا ہے اور اس طرح کے معاملات میں جو پہلے رجسٹریشن ہوتا ہے۔ اسی ڈاکیومنٹس کو صحیح قرار دیا جائے گا اور بعد کے ڈاکیومنٹس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہوتی ہےجب اگر کوئی بھی جائیداد یا کوئی بھی پلاٹ کو رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعہ خریدا جاتا ہے تو آپ کو گواہان کو بھی ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے کیونکہ ایک رجسٹرڈ ڈاکیومنٹ کی مسلمہ حیثیت ہوتی ہے۔
اس کو قانون بھی قبول کرتا ہے۔ ہاں اگر کوئی جائیداد آپ کو گفٹ یا ول کے ذریعہ سے حاصل ہوئی ہے تو پھر آپ گواہان کو پیش کرتے ہوئے اپنے مقدمہ کو مضبوط بنا سکتے ہیں تاہم اگر آپ سیل ڈیڈ کی بنیاد پر عدالت سے رجوع ہوتے ہیں تو آپ کے لئے سیل ڈیڈ ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ جائیداد آپ نے خریدی ہے اور وہ قانونی طور پر درست ہے اور اگر اسی جائیداد کو بعد میں کوئی خریدتے ہیں تو پھر اس کی کوئی قانونی اور مسلمہ حیثیت نہیں ہوتی ہے۔