حیدرآباد

حیدرآباد، اے آئی کے محفوظ اور ذمہ دار مستقبل کا مرکز بنتا جا رہا ہے: وزیر سریدھربابو

سریدھر بابو نے اس موقع پر کہا کہ دنیا بھر کے شہر مصنوعی ذہانت کے نئے دور کی قیادت کے لئے مسابقت کر رہے ہیں لیکن حیدرآباد نے ایک منفرد راستہ منتخب کیا ہے جہاں ترقی کا محور گہری تکنیکی صلاحیت، مضبوط ایکو سسٹم اور طویل مدتی ویژن ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیرانفارمیشن ٹکنالوجی سریدھربابو نے کہا ہے کہ حیدرآباد اب صرف ٹکنالوجی ہَب نہیں رہے گا بلکہ ایک محفوظ، ذمہ دار اور مستقبل ساز مصنوعی ذہانت کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج میں مصنوعی ذہانت پر قومی سمینار
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام


وزیرموصوف نے آج حیدرآباد میں کوواسینٹ کے نئے اے آئی سنٹر کا افتتاح کیا۔


یہ مرکز ابتدا میں 500اے آئی انجینئرس کی گنجائش کے ساتھ قائم کیا گیا ہے جبکہ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ 2028 تک اسے تیزی سے بڑھا کر 3000 انجینئرس تک توسیع دی جائے گی۔


سریدھر بابو نے اس موقع پر کہا کہ دنیا بھر کے شہر مصنوعی ذہانت کے نئے دور کی قیادت کے لئے مسابقت کر رہے ہیں لیکن حیدرآباد نے ایک منفرد راستہ منتخب کیا ہے جہاں ترقی کا محور گہری تکنیکی صلاحیت، مضبوط ایکو سسٹم اور طویل مدتی ویژن ہے۔


انہوں نے کہا کہ آنے والے برس میں حیدرآباد میں اڈوانسڈ انجینئرنگ سنٹرس کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ اے آئی اور سائبر سیکیورٹی کے خصوصی شعبوں میں تیزی سے نئی مہارتیں اور مواقع پیدا ہوں گے۔


وزیر کے مطابق کوواسینٹ کا نیا اے آئی سنٹر اس ترقی کو مزید رفتار دے گا اور گورننس، سائبر سیکیورٹی اور انٹرپرائز سطح کے اے آئی ڈیولپمنٹ کو ایک ہی مضبوط ایکو سسٹم میں یکجا کرے گا۔


حیدرآباد کو مستقبل کے عالمی کمانڈمرکز کے طور پر تیار کرنے کی حکمتِ عملی بھی اسی سمت کی ایک بڑی پیش رفت ہے۔