حیدرآباد

حیدرآباد: کپاس کی خریداری میں مرکز اور ریاست کی لاپرواہی۔ کے ٹی آر کا الزام

انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت دونوں کی مبینہ لاپرواہی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے کسان 6ماہ تک محنت سے کپاس اگاتے ہیں، مگر آج دونوں حکومتوں کی غفلت کے باعث یہ کسان منڈیوں میں پریشانی کاشکار ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں کپاس کی خریداری میں شدید بحران پیدا ہونے کا بی آر ایس کے کارگزار صدرکے ٹی آر نے الزام لگایا۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
تلنگانہ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں! کے ٹی راما راؤ کا سخت موقف
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومت دونوں کی مبینہ لاپرواہی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے کسان 6ماہ تک محنت سے کپاس اگاتے ہیں، مگر آج دونوں حکومتوں کی غفلت کے باعث یہ کسان منڈیوں میں پریشانی کاشکار ہیں۔


کے ٹی آر نے کہا کہ کسانوں کی آنکھوں کے سامنے کپاس سرد موسم کی نمی سے خراب ہوتی جا رہی ہے، لیکن مرکز اور ریاست دونوں غفلت کی نیند سو رہی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ ایک ماہ میں 28 لاکھ ٹن خریداری کا ہدف مقرر تھا، لیکن اب تک صرف 1.12 لاکھ ٹن کپاس ہی خریدی گئی ہے، جو ریاست میں سنگین خریداری بحران کی واضح مثال ہے۔


انہوں نے الزام لگایا کہ کپاس کی نمی، کپاس موبائل ایپ رجسٹریشن، اور ملوں کی گریڈنگ جیسے بہانے بنا کر کاٹن کارپوریشن آف انڈیا خریداری سے انکار کر رہی ہے، جس میں جِننگ ملوں کی بدعنوانی بھی شامل ہو کر کسانوں کی کمر توڑ رہی ہے۔


کے ٹی آر نے کہا کہ کسانوں کو امدادی قیمت نہیں مل رہی اور وہ مجبوری میں درمیانی دلالوں پر انحصار کرتے ہوئے بھاری نقصان اٹھا رہے ہیں۔


انہوں نے ریاست کی نمائندگی کرنے والے مرکزی وزراء، کانگریس اور بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ کپاس کی فوری خریداری کیلئے مرکز پر دباؤ بڑھائیں تاکہ کسانوں کو راحت مل سکے۔