حیدرآباد

حیدرآباد: عید الفطر کے اجتماع میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد میں واقع مسجد میں منعقدہ عید الفطر کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ عید الفطر دراصل بہت سی خوشیوں کا مجموعہ ہے۔

حیدرآباد: خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد میں واقع مسجد میں منعقدہ عید الفطر کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ عید الفطر دراصل بہت سی خوشیوں کا مجموعہ ہے۔

متعلقہ خبریں
جنت البقیع کی تعمیر نو کیلئے عالمی سطح پر احتجاج، حیدرآباد کے اندرا پارک پر دھرنا کا اعلان
حیدرآباد: جامعۃ المؤمنات میں شب قدر کی محفل، مولانا صابر پاشاہ قادری کے خطاب نے دل جیت لیے
جمعتہ الوداع: احساس اور عبادت کا دن – مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
رمضان المبارک میں صدقات، خیرات اور محاسبہ نفس: ایک روحانی سفرتحریر: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
رمضان المبارک کے آخری عشرے کی قدر کریں، دعاؤں اور نیکیوں میں وقت گزاریں: مولانا مفتی صابر پاشاہ قادری

ایک رمضان المبارک کے روزوں کی خوشی، دوسری قیام شب ہائے رمضان کی خوشی، تیسری نزول قرآن، چوتھی لیلۃ القدر اور پانچویں اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزہ داروں کے لئے رحمت و بخشش اور عذاب جہنم سے آزادی کی خوشی۔

پھر ان تمام خوشیوں کا اظہار صدقہ و خیرات جسے صدقہ فطر کہا جاتا ہے، کے ذریعے کرنے کا حکم ہے تاکہ عبادت کے ساتھ انفاق و خیرات کا عمل بھی شریک ہو جائے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بناء پر اسے مومنوں کے لئے ’’خوشی کا دن‘‘ قرار دیا گیا۔

عید کا دن جہاں خوشی و مسرت کے اظہار اور میل ملاپ کا دن ہوتا ہے وہاں عید کی رات میں کی جانے والی عبادت کی فضیلت عام دنوں میں کی جانے والی عبادت سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں میں عبادت کی نیت سے قیام کرتا ہے، اس کا دل اس دن بھی فوت نہیں ہوگا جس دن تمام دل فوت ہو جائیں گے۔‘‘ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص پانچ راتیں عبادت کرے، اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

وہ راتیں یہ ہیں: آٹھ ذو الحجہ، نو ذوالحجہ (یعنی عید الاضحیٰ)، دس ذوالحجہ، عید الفطر اور پندرہ شعبان کی رات (یعنی شبِ برات)۔‘‘ آج عیدالفطر ہے۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے روزوں، عبادتوں اور قربانیوں کے بعد یہ دن خوشی، مسرت اور شکرگزاری کا پیغام لے کر آیا ہے۔

ہماری طرف سے آپ سب کو عیدالفطر کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! عیدالفطر نہ صرف روحانی تجدید کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ باہمی محبت، اخوت اور بھائی چارے کے رشتوں کو مضبوط کرنے کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔

عیدالفطر کا پیغام صرف ذاتی خوشی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کریں۔ رمضان میں ہم نے صبر، تحمل اور ایثار کی جو تربیت حاصل کی، اب وقت ہے کہ اسے عملی جامہ پہنایا جائے۔ اپنے پڑوسیوں، دوستوں، رشتہ داروں اور خصوصاً غریبوں اور محتاجوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔

زکوٰۃ الفطر اور خیرات کے ذریعے ضرورت مندوں تک عید کی خوشیاں پہنچانا ہماری اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ یہ عمل معاشرتی مساوات کو فروغ دیتا ہے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرتا ہے۔ عید کا مقصد صرف نئے کپڑے پہننا اور خوشیاں منانا نہیں، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونا بھی ہے جو کسی وجہ سے عید کی خوشیوں سے محروم ہیں۔

ہمیں اس موقع پر اپنے فلسطینی بھائیوں، بہنوں اور معصوم بچوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو شب و روز بدترین مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگرچہ ہم براہِ راست ان تک نہیں پہنچ سکتے، لیکن ہم اپنی دعاؤں میں ضرور ان کا ذکر کر سکتے ہیں۔ اسی طرح میانمار اور تھائی لینڈ میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے بھی دعا کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مظلوموں اور متاثرین کی غیب سے مدد فرمائے۔

واضح رہے کہ مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلق کرنے کو شریعت نے سخت نا پسند فرمایا ہے، قرآن حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اہلِ جنت میں سے کسی کے دل میں دوسرے کے لیے کدورت اور رنجش ہوگی تو اللہ اس کے دل سے کدورت نکال دیں گے، یعنی جنت میں جا کر کسی دو جنتیوں کے درمیان کوئی ناراضی نہیں ہوگی، وہ سب آپس میں خوش و خرم رہیں گے۔ یعنی جنتی لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کی طرف سے کوئی رنجش یا کدورت ہوگی تو ہم اس کو ان کے دلوں سے نکال دیں گے، یہ لوگ ایک دوسرے سے بالکل خوش، بھائی بھائی ہو کر جنت میں جائیں گے اور بسیں گے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ مومنین جب پل صراط سے گزر کر جہنم سے نجات حاصل کرلیں گے تو ان کو جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان کے آپس میں اگر کسی سے کسی کو رنجش تھی یا کسی پر کسی کا حق تھا تو یہاں پہنچ کر ایک دوسرے سے انتقام لے کر معاملات صاف کرلیں گے اور اس طرح حسد، بغض، کینہ وغیرہ سے پاک صاف ہوکر جنت میں داخل ہوں گے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے مزید بتایا کہ دنیا کے دو ارب سے زیادہ مسلمان ماہ رمضان کی مبارک ساعتوں میں روزوں، نمازوں، صدقات خیرات اور دیگر خصوصی عبادتوں کی سعادت ملنے پر آج سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عید الفطر کی شکل میں اپنے رب کے شکر کے ساتھ اظہار مسرت کر رہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے سال کی دو عیدیں عید الفطر اور عید الاضحی مسلمانوں کے لیے تہوار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ دنیا کی بیشتر تہذیبوں میں تہوار کا تصور بے لگام جشن شاد مانی، میلوں ٹھیلوں، کھیل تماشوں، ناؤ نوش اور فضول مشاغل سے عبارت ہے لیکن اسلامی عیدوں کے تہوار پوری طرح بامقصد ہیں۔ نماز عید الفطر کی دو رکعتیں اس بات کے شکرانے کے طور پر ادا کی جاتی ہیں کہ روزوں کی شکل میں ایسی عبادت کی توفیق ملی جس کا صلہ ارشاد نبویؐ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے خود اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔

ایک مہینے کے روزوں کی اس سالانہ مشق کا اصل مقصد قرآن کی رو سے اہل ایمان کو تقویٰ کی تربیت دینا ہے۔ لفظ تقویٰ کی نہایت جامع تشریح حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے کانٹوں بھرا راستہ لباس کو الجھنے سے بچاتے ہوئے طے کرنے کی مثال سے کی ہے۔ دنیا کی زندگی ناجائز خواہشات اور ترغیبات میں گھری ہوئی ہے۔ اس راستے پراپنے دامن کو رب کی نافرمانی اور بدکرداری کی خاردار جھاڑیوں سے بچا کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہی تقویٰ ہے۔ رمضان میں ایک مسلمان اپنے رب کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے دن بھر کھانے پینے سے کسی ظاہری دباؤ کے بغیر خود کو روک کر جس تقویٰ کی تربیت حاصل کرتا ہے، اس کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کی پوری زندگی میں اس تربیت کا اظہار ہو۔ وہ تقویٰ کے ایک مہینے کی اس مشق کے بعد بھی ہر لمحے خود کو بدعنوانی اور خیانت کی ہر شکل سے بچا کر رکھنے کے لیے کوشاں رہے۔ اس کے سماجی روابط اور دنیاوی معاملات بھی ہر قسم کی بددیانتی سے پاک رہیں۔ بالفاظ دیگر بحیثیت مسلمان ہماری پوری زندگی قرآن کی اخلاق و کردار میں ڈھل جائے۔ لیکن ہماری عملی کیفیت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے کاروباری طبقے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے سارے ریکارڈ رمضان میں توڑ دیتے ہیں۔ ان حالات میں ہمارے لیے عید کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہم رمضان کے تیس دنوں کی تربیت کے اصل مقصد کے مطابق ہر قسم کی خیانت و بے ضمیری اور بددیانتی و بدعنوانی سے اپنی زندگیوں کو پاک کریں کہ یہی رویہ ہمارے لیے آخرت کی کامیابی کا ضامن بھی بن سکتا ہے۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے مزید کہا کہ الحمدللہ! جس نے ہمیں ان مبارک دنوں تک پہنچایا، ان لمحات کو خوشی اور عبادت کا ذریعہ بنایا، اور ہمیں رمضان کی نعمت عطا کی کہ ہم روزے رکھیں، قیام کریں اور اس کی رحمتیں سمیٹیں۔ پس، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جب تک وہ راضی ہو، اور جب وہ راضی ہو، اور اس کے بعد بھی ہمیشہ ہمیشہ۔

اے ہمارے پیارے اہلِ عراق اور تمام عالمِ اسلام کے عزیزو! عید الفطر کی ان مقدس گھڑیوں میں ہم آپ کے لیے دلی محبتوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ دعائیں بھیج رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ عید آپ سب کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے اور امتِ مسلمہ کے لیے خوشی، راحت اور فلاح کا پیغام لے کر آئے۔

اے اللہ! اس عید کو سلامتی، سکونِ قلب اور برکتوں کا وسیلہ بنا دے۔ ہمارے اوطان میں امن و سکون بحال فرما، اور ہمیں سچائی اور ہدایت کے راستے پر متحد رکھ۔

یا اللہ! یہ عید اہلِ ایمان کے لیے خوشی اور مسرت کی عید ہو، ہمارے دلوں کو گناہوں سے پاک کرنے والی عید ہو، ہماری عبادات کی قبولیت کی بشارت دینے والی عید ہو، امتِ مسلمہ کے سربلند ہونے کی عید ہو، اور دنیا کے ہر مظلوم اور محروم کے لیے نصرت اور مدد کی عید ہو۔

یا رب! ہماری اور ہمارے والدین کی مغفرت فرما، ہمیں اپنی بے پایاں رحمت میں ڈھانپ لے، ہمیں جہنم کی آگ سے آزاد کر دے، اور ہم سب کو بغیر حساب کے جنت الفردوس عطا فرما۔

اور اے رب! آج کے دن ہم اپنے اہلِ عراق کو نہیں بھول سکتے۔ ان کے لیے جلد از جلد کشادگی اور آسانی فرما، انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھ، ان کے ملک میں امن اور استحکام واپس لوٹا، اور ہر تکلیف اور مصیبت کو ان سے دور فرما۔

عید مبارک! اللہ ہماری اور آپ کی نیک اعمال کو قبول فرمائے۔ ہر سال آپ خیر و برکت کے ساتھ عید مناتے رہیں۔