حیدرآباد

حیدرآباد میٹرو ریل کے کرایوں میں اضافہ، مسافروں کو ریزگاری کی قلت کا سامنا

یہی مسئلہ میٹرو اسٹیشنوں کے بیت الخلا کے استعمال کے وقت بھی پیش آ رہا ہے، جہاں صارفین کا الزام ہے کہ کھلے پیسے نہ ہونے کی صورت میں ان سے طے شدہ رقم سے زیادہ وصول کیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد میٹرو ریل کرایوں میں حالیہ اضافہ کے بعد مسافروں کو ایک نئی مشکل کا سامنا ہے۔ پہلے کرائے 10، 15، 25 روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ 60 روپے تک ہوا کرتے تھے، اس لئے5روپے کے سکے باآسانی چل جاتے تھے

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
گنیش اتسو سمیتی اور وی ایچ پی کے وفد کی میٹرو ریل لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائرکٹرکو تجاویز
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت

اور ریزگاری (چلر)کی کمی کوئی مسئلہ نہیں تھی تاہم کرایوں میں اضافہ کے بعد 10 فیصد رعایت کے باوجود نئی قیمتیں 11، 17، 37، 56 اور 69 روپے کر دی گئی ہیں۔

اگرچہ رعایت سے کچھ راحت ملی ہے، مگر اب ریزگاری کی کمی کی وجہ سے مسافروں اور میٹرو عملے دونوں کو پریشانی ہو رہی ہے۔

آن لائن یا کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کرنے والے مسافروں کو تو مسئلہ نہیں ہو رہا، لیکن نقد رقم سے ٹکٹ خریدنے والے مسافروں کو ریزگاری کی کمی کی شکایات ہیں۔

یہی مسئلہ میٹرو اسٹیشنوں کے بیت الخلا کے استعمال کے وقت بھی پیش آ رہا ہے، جہاں صارفین کا الزام ہے کہ کھلے پیسے نہ ہونے کی صورت میں ان سے طے شدہ رقم سے زیادہ وصول کیا جا رہا ہے۔