حیدرآباد

حیدرآباد: شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ کا یوم ولادت منایا گیا

4 ربیع الاخر 1446ھ کو، دفتر قضاءت شاہ علی بنڈا میں ابنائے جامعہ نظامیہ کے زیر اہتمام شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ کے یوم ولادت کا جلسہ منعقد ہوا۔

حیدرآباد: 4 ربیع الاخر 1446ھ کو، دفتر قضاءت شاہ علی بنڈا میں ابنائے جامعہ نظامیہ کے زیر اہتمام شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ کے یوم ولادت کا جلسہ منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت قاضی شریعت پناہ، حضرت مولانا میر قادر علی نظامی نے کی۔

متعلقہ خبریں
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مدرسہ انوارسیفی میں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد عطائے خلعت و دستاربندی
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی

جلسے کا آغاز مولانا عبدالصمد نظامی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ نعت شریف کی سعادت مولانا غلام احمد خزیمہ رفاعی نے حاصل کی، جبکہ مولانا عبدالصمد نظامی نے منقبت پیش کر کے محفل کو روح پرور بنایا۔

مؤرخ جامعہ نظامیہ، حضرت العلام شاہ محمد فصیح الدین نظامی نے خطاب کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیت "وَالسَّلاَمُ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امام محمد انوار اللہ فاروقی نہ صرف بانی جامعہ نظامیہ ہیں بلکہ دکن کے سلطانوں کے بھی استاد رہے ہیں۔

ان کی علمی خدمات کی بدولت اعلی حضرت نواب میر محبوب علی خان نظام ششم نے انہیں خان بہادر کا خطاب دیا، جبکہ نواب میر عثمان علی خان نے انہیں "فضیلت جنگ” کا خطاب نذر کیا۔

انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام نے علم اور علماء کی فضیلت پر 40 احادیث جمع کیں اور آپ کی تصنیف کردہ 100 کتب میں علم کی گہرائی کا ثبوت ملتا ہے۔ حضرت شیخ الاسلام نے اپنی زندگی میں کئی اہم کتب کی اشاعت کی، جن میں کنز الاعمال کا شائع ہونا بھی شامل ہے۔

مزید کہا گیا کہ آپ کی شخصیت نے نہ صرف دکن کے شاہان کو تعلیم دی بلکہ رعایا کی تربیت میں بھی بھرپور کوششیں کیں۔ جامعہ نظامیہ آج بھی ملت اسلامیہ کی خدمت میں مصروف ہے، اور اس کے فارغین دنیا بھر میں شیخ الاسلام کی تعلیمات کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔

آخر میں، قاضی شریعت پناہ حضرت مولانا قاضی میر قادر علی نے دعا کی اور ناظم جلسہ مولانا قاری غلام احمد خزیمہ رفاعی نے شکریہ ادا کر کے جلسہ اختتام پذیر کیا۔