حیدرآباد

حیدرآباد: "اجالوں کے شجر” کی رسمِ اجرا، خادم رسول عینی کی نعتیہ شاعری کو خراجِ تحسین

اردو گھر مغل پورہ میں ممتاز نعت گو شاعر جناب سید خادم رسول عینی کے شعری مجموعے "اجالوں کے شجر" کی رسمِ اجرا کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں نامور ادباء و شعراء اور اہلِ علم کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر ایک محفلِ مشاعرہ کا بھی انعقاد کیا گیا۔

حیدرآباد: اردو گھر مغل پورہ میں ممتاز نعت گو شاعر جناب سید خادم رسول عینی کے شعری مجموعے "اجالوں کے شجر” کی رسمِ اجرا کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں نامور ادباء و شعراء اور اہلِ علم کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر ایک محفلِ مشاعرہ کا بھی انعقاد کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر عزیز اللہ شیرانی (مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھپور، راجستھان) نے انجام دی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جناب خادم رسول عینی کی نعتیہ شاعری سادگی، شعور، خلوص اور عشقِ رسولؐ کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی شاعری میں نادر تشبیہات، استعارات اور قرآنی آیات کے برمحل حوالہ جات نعت گوئی کو روحانی رنگ عطا کرتے ہیں۔

پروفیسر شیرانی نے کہا کہ "اجالوں کے شجر” صرف ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے محبت اور عقیدت کا اظہار ہے۔ ان کے کلام میں زبان و بیان کی شوکت، ندرتِ خیال اور فکری تازگی نمایاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جناب خادم رسول عینی اردو نعتیہ شاعری میں ایک سلجھے، سنجیدہ اور متین شاعر کے طور پر ابھرے ہیں جنہوں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو نعت کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔

تقریب میں محترمہ رفعت کنیز نے ایک جامع مقالہ پیش کرتے ہوئے جناب عینی کی ادبی خدمات کا تفصیل سے جائزہ لیا اور کہا کہ انہوں نے اردو زبان و ادب کی آبیاری میں اپنا حصہ پیش کیا ہے۔

اس موقع پر منعقدہ مشاعرہ میں پروفیسر مسعود احمد، جناب فرید سحر، جناب نوید جعفری، جناب شکیل حیدر، جناب لطیف الدین لطیف، محترمہ ایلزبتھ کورین اور محترمہ مونا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرہ کی نظامت جناب شکیل حیدر نے کی۔

تقریب کے اختتام پر "اجالوں کے شجر” کی مفت تقسیم کی گئی۔ اہلِ ادب اور شعری ذوق رکھنے والے افراد نے اس موقع پر خادم رسول عینی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

یہ ادبی محفل بزم اربابِ سخن کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی تھی۔