حیدرآبادی حلیم کی دھوم! اس رمضان 1000 کروڑ کے کاروبار کا امکان
حلیم محض ایک پکوان نہیں بلکہ حیدرآباد کی ایک بڑی صنعت بن چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال یہ کاروبار 800 کروڑ روپے کا تھا جبکہ اس سیزن میں اس کے 1000کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔
حیدرآباد: رمضان المبارک کا مہینہ قریب آتے ہی حیدرآباد کی گلیوں میں حلیم کی خوشبو بس جاتی ہے، یوں تو شہرِ حیدرآباد میں شیر خرمہ، شاہی ٹکڑے، بریانی اور کدو کی کھیر جیسے لاتعداد پکوان اپنی پہچان رکھتے ہیں
لیکن حلیم کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اس سال رمضان سے قبل ہی شہر بھر میں بڑے پیمانہ پر حلیم کے مراکز قائم ہو چکے ہیں۔ بریانی کے بعد اب حلیم کے دیوانوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے پیش نظر ہوٹل مالکین نے بڑے پیمانہ پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
حلیم محض ایک پکوان نہیں بلکہ حیدرآباد کی ایک بڑی صنعت بن چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال یہ کاروبار 800 کروڑ روپے کا تھا جبکہ اس سیزن میں اس کے 1000کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کی امید ہے۔
گزشتہ سیزن میں تقریباً 50 لاکھ پلیٹ حلیم فروخت ہوئی تھی، اس بار یہ نشانہ 60 لاکھ تک پہنچ سکتا ہے۔ شہر میں حلیم فروخت کرنے والے تقریباً 6000 مراکز ہیں۔ بڑے ہوٹلوں میں روزانہ 25 ہزار کلو تک حلیم تیار ہوتی ہے۔
اس سیزن میں تقریباً ایک لاکھ افراد کو بلاواسطہ یا بالواسطہ روزگار ملتا ہے جن میں باورچیوں سے لے کر ڈیلیوری بوائز تک شامل ہیں۔
حلیم کی تیاری میں تقریباً 21اقسام کے اجزاء استعمال کئے جاتے ہیں جن میں الائچی، لونگ، شاہ زیرہ، دار چینی، کالی مرچ، گیہوں کا روا، باسمتی چاول، مختلف دالیں (مونگ، مسور، ماش)، ادرک لہسن، دیسی گھی، کاجو، بادام اور تلی ہوئی پیاز شامل ہیں۔
اس کی سب سے بڑی خاصیت دیسی گھی اور بکرے کے گوشت کا وافر استعمال ہے جو اسے انتہائی لذیذ اور قوت بخش بناتا ہے۔ حیدرآباد کی حلیم نہ صرف دوسرے شہروں بلکہ امریکہ، برطانیہ اور خلیجی ممالک کو بھی برآمد کی جاتی ہے۔