مشرق وسطیٰ

“میں بَنکر میں نہیں چھپوں گا” ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے آخری فیصلے سے متعلق اہم انکشاف

عبدالمجید حکیم لاہی کے مطابق جب انہوں نے سکیورٹی حکام سے سوال کیا کہ خامنہ ای کو کسی محفوظ مقام پر کیوں منتقل نہیں کیا جا رہا تو انہیں بتایا گیا کہ ایرانی رہنما نے خود ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

نئی دہلی / تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے آخری فیصلوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جنہوں نے دنیا بھر کو حیران کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر ہونے والے حملوں کے دوران سکیورٹی حکام نے خامنہ ای کو محفوظ مقام یا بَنکر میں منتقل کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے تہران چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا۔

متعلقہ خبریں
اسرائیل کو سخت ترین سزا دینے كیلئے حالات سازگار ہیں:علی خامنہ ای
اتم کمار ریڈی سے راہول گاندھی کا اظہار تعزیت
ایکشن میں تبدیلی سے گیندبازی میں بہتری : کلدیپ یادو
ڈی جے پر رقص کے دوران جھگڑا، تین نوجوانوں کی موت، 6 زخمی
انڈونیشیا میں سیلاب کی تباہ کاریاں، ہلاکتوں کی تعداد 41 ہو گئی

ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے عبدالمجید حکیم لاہی نے اس حوالے سے اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سکیورٹی حکام کی بار بار درخواست کے باوجود خامنہ ای نے بَنکر میں جانے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بات انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں خطاب کے دوران بتائی۔

عبدالمجید حکیم لاہی کے مطابق جب انہوں نے سکیورٹی حکام سے سوال کیا کہ خامنہ ای کو کسی محفوظ مقام پر کیوں منتقل نہیں کیا جا رہا تو انہیں بتایا گیا کہ ایرانی رہنما نے خود ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ان کے مطابق خامنہ ای نے کہا تھا: “اگر آپ تہران کے نوّے ملین عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کر سکتے ہیں اور ان کے لیے نوّے ملین بَنکر تعمیر کر سکتے ہیں تو میں بھی بَنکر میں چلا جاؤں گا۔” انہوں نے مزید کہا تھا کہ وہ ملک کے رہنما ہیں اور ایک رہنما کو اپنے عوام کے ساتھ ہی رہنا چاہیے۔

نمائندے کے مطابق خامنہ ای اکثر اپنے اہلِ خانہ سے کہا کرتے تھے کہ اگر وہ عوام سے الگ اور خصوصی زندگی گزاریں گے تو وہ زیادہ عرصے تک اس ملک کی قیادت کے اہل نہیں رہیں گے۔

عبدالمجید حکیم لاہی نے مزید بتایا کہ خامنہ ای کو موت سے کوئی خوف نہیں تھا بلکہ وہ ہمیشہ یہ خواہش رکھتے تھے کہ ان کی موت ایک بہادر انسان کی طرح ہو۔

انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل خامنہ ای نے ان سے کہا تھا کہ وہ اب چھیاسی برس کے ہو چکے ہیں اور انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں وہ اسپتال میں یا کسی بیماری کے باعث نہ وفات پا جائیں۔ ان کے بقول وہ ایسی موت نہیں چاہتے تھے بلکہ چاہتے تھے کہ ان کا اختتام ایک بہادر اور دلیر انسان کی طرح ہو۔