آئی اے ایس افسر خبر معاملہ: این ٹی وی صحافیوں کی گرفتاری، میڈیا حلقوں میں ہلچل
حیدرآباد میں ایک اہم پیش رفت کے تحت تلنگانہ پولیس نے NTV کے ان پٹ ایڈیٹر دونتو رمیش اور رپورٹرز پریپورن چاری اور سدھیر کو ایک متنازع خبر کے معاملے میں گرفتار کر لیا ہے۔
حیدرآباد میں ایک اہم پیش رفت کے تحت تلنگانہ پولیس نے NTV کے ان پٹ ایڈیٹر دونتو رمیش اور رپورٹرز پریپورن چاری اور سدھیر کو ایک متنازع خبر کے معاملے میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ خبر ایک خاتون آئی اے ایس افسر اور ایک ریاستی وزیر سے متعلق تھی، جس کے بعد حکومت کی جانب سے سخت کارروائی کے اشارے دیے گئے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تینوں کو آج مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے، تاہم گرفتاری کی باضابطہ تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق، دونتو رمیش کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بیرونِ ملک سفر کے لیے حیدرآباد ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ رپورٹرز پریپورن چاری اور سدھیر کو بھی پولیس نے تحویل میں لے لیا۔ چینل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ تینوں کو کہاں رکھا گیا ہے اور براہِ راست مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ معاملہ تقریباً پانچ دن قبل نشر ہونے والی ایک خبر سے جڑا ہوا ہے۔ اس خبر کے بعد تلنگانہ حکومت نے این ٹی وی کے خلاف سخت اقدامات کی تیاری کی اور پولیس کے اعلیٰ افسر سجّنار کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔ قانونی مشیروں کے مشورے کے بعد این ٹی وی انتظامیہ نے گزشتہ شام عوامی طور پر معذرت بھی کی تھی، جس کے بعد کئی لوگوں نے سمجھا کہ معاملہ ختم ہو جائے گا، مگر اچانک گرفتاریوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
چینل انتظامیہ نے اس کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتاری کے طریقۂ کار میں شفافیت نظر نہیں آ رہی۔ دوسری جانب پولیس حکام کا موقف ہے کہ پوری کارروائی قانون کے دائرے میں کی جا رہی ہے اور تحقیقات جاری رہیں گی۔ حکومت کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں سے متعلق خبروں میں کسی بھی قسم کی غلط رپورٹنگ برداشت نہیں کی جائے گی اور میڈیا اداروں کو قانونی و اخلاقی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔
اس واقعے نے ایک بار پھر تلنگانہ میں میڈیا کی آزادی، ذمہ داری اور قانونی احتساب پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ اب تمام نظریں مجسٹریٹ کی سماعت اور ایس آئی ٹی کی آئندہ کارروائی پر مرکوز ہیں۔