پچاس ہزار روپے تک کی دھوکہ دہی ہوئی تو 25 ہزار تک واپس ملیں گے آر بی آئی
سنجے ملہوترا نے بعد میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ "بغیر کوئی سوال پوچھے" صارفین کو 85 فیصد رقم (زیادہ سے زیادہ 25 ہزار روپے) واپس کی جائے گی
ممبئی : ڈیجیٹل بینکنگ ذرائع سے دھوکہ دہی کے شکار لوگوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے صارفین کو 25 ہزار روپے تک واپس کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے جمعہ کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد جاری بیان میں بتایا کہ اس کے لیے جلد ہی مرکزی بینک ایک فریم ورک جاری کرے گا۔ اس میں 50 ہزار روپے یا اس سے کم کی دھوکہ دہی کے معاملات کو شامل کیا جائے گا۔
سنجے ملہوترا نے بعد میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ "بغیر کوئی سوال پوچھے” صارفین کو 85 فیصد رقم (زیادہ سے زیادہ 25 ہزار روپے) واپس کی جائے گی۔
دھوکہ دہی کی رقم میں سے 15 فیصد کا نقصان صارف کو برداشت کرنا ہوگا اور 15 فیصد کا نقصان متعلقہ بینک اٹھائے گا۔ باقی 70 فیصد رقم آر بی آئی دے گا۔ تاہم کسی بھی صورت میں صارف کو 25 ہزار روپے سے زیادہ کا معاوضہ نہیں ملے گا۔
آر بی آئی گورنر نے واضح کیا کہ صارف اس سہولت کا فائدہ اپنی زندگی میں صرف ایک بار اٹھا سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ "ہم چاہتے ہیں کہ صارف ایک بار کی غلطی سے سبق سیکھیں۔” ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ چاہے صارف نے خود ہی ٹھگوں کو او ٹی پی (ون ٹائم پاس ورڈ) بتایا ہو، تب بھی وہ معاوضے کی رقم پانے کے حقدار ہوں گے۔
سنجے ملہوترا نے کہا کہ ڈیجیٹل دھوکہ دہی میں 50 ہزار روپے تک کی رقم والے معاملات 65 فیصد ہیں، حالانکہ قیمت کے حساب سے ان کا تناسب کافی کم ہے۔ آر بی آئی 70 فیصد نقصان کی تلافی کے لیے اپنی اضافی آمدنی کا استعمال کرے گا۔