ایران کے پاور انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
ایران آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں پورے خطے کو اندھیرے میں ڈبو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں پورا علاقہ شدید بحران کا شکار ہو جائے گا اور اندھیرا امریکی فوجیوں کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوگا
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ چاہے تو صرف ایک گھنٹے کے اندر ایران کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرسکتا ہے، تاہم ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔
لاریجانی نے اس بیان کو سنگین دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے واقعی ایران کے بجلی نظام کو نشانہ بنایا تو ایران آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں پورے خطے کو اندھیرے میں ڈبو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں پورا علاقہ شدید بحران کا شکار ہو جائے گا اور اندھیرا امریکی فوجیوں کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اندھیرا ان امریکی فوجیوں کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کرے گا جہاں انہیں اپنی جان بچانا بھی مشکل ہو جائے گا۔ لاریجانی کے مطابق ایران کسی بھی حملے کی صورت میں خاموش نہیں بیٹھے گا بلکہ بھرپور اور مؤثر جواب دے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ بیانات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات اور جغرافیائی سیاسی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے اور ایسے سخت بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی بجلی، تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے۔