مشرق وسطیٰ

ایران کے پاور انفراسٹرکچر پر حملہ کیا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔     

ایران آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں پورے خطے کو اندھیرے میں ڈبو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں پورا علاقہ شدید بحران کا شکار ہو جائے گا اور اندھیرا امریکی فوجیوں کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوگا

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ چاہے تو صرف ایک گھنٹے کے اندر ایران کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرسکتا ہے، تاہم ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
سنکرانتی منانے گھر آیا نوجوان پراسرار حالات میں مردہ پایاگیا
ڈاکٹر مہدی کا محکمہ ثقافتی ورثہ و آثار قدیمہ تلنگانہ کا دورہ، مخطوطات کے تحفظ کے لیے ایران سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
پی سی بی چیرمین کا جئے شاہ کو انتباہ
اسرائیلی حملہ میں لبنان میں 20 اور شمالی غزہ میں 17 جاں بحق
ایران میں زہریلی شراب پینے سے مہلوکین کی تعداد 26ہوگئی

لاریجانی نے اس بیان کو سنگین دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے واقعی ایران کے بجلی نظام کو نشانہ بنایا تو ایران آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں پورے خطے کو اندھیرے میں ڈبو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں پورا علاقہ شدید بحران کا شکار ہو جائے گا اور اندھیرا امریکی فوجیوں کے لیے مزید خطرناک ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اندھیرا ان امریکی فوجیوں کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کرے گا جہاں انہیں اپنی جان بچانا بھی مشکل ہو جائے گا۔ لاریجانی کے مطابق ایران کسی بھی حملے کی صورت میں خاموش نہیں بیٹھے گا بلکہ بھرپور اور مؤثر جواب دے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ بیانات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات اور جغرافیائی سیاسی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے اور ایسے سخت بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی بجلی، تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے۔