مذہب

اگر دوران حج رقم چوری ہو جائے اور قربانی کے پیسے نہ بچے؟

اگر اس پر قربانی واجب ہو ، وہ روزے رکھ سکتا ہو اور ۷/ ذی الحجہ سے پہلے یہ واقعہ پیش آیا ہو ، تو اسے چاہئے کہ سات ، آٹھ ، نو ذی الحجہ کو روزے رکھ لے اور ۱۳ / ذی الحجہ کے بعد پھر کبھی باقی سات روزے پورے کر لے ، تو یہ دس روزے قربانی کا بدل ہوجائیں گے ،

سوال:- اگر کسی حاجی کی رقم گم یا چوری ہوجائے تو ایسی صورت میں حاجی کس طرح اپنی قربانی دے ؟ کیا اس حالت میں حاجی کو خیرات لے کر اپنا حج مکمل کرنے اور قربانی دینے کی شرعا اجازت ہے ؟ ( عاطف کمال، شاہین باغ، دہلی )

جواب:- اگر اس پر قربانی واجب ہو ، وہ روزے رکھ سکتا ہو اور ۷/ ذی الحجہ سے پہلے یہ واقعہ پیش آیا ہو ، تو اسے چاہئے کہ سات ، آٹھ ، نو ذی الحجہ کو روزے رکھ لے اور ۱۳ / ذی الحجہ کے بعد پھر کبھی باقی سات روزے پورے کر لے ، تو یہ دس روزے قربانی کا بدل ہوجائیں گے ،

خود قرآن میں اس کی صراحت موجود ہے ۔ (بقرہ:۱۹۶) اور اگر روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو ، یا دس ذی الحجہ سے پہلے تین روزے رکھنے کی مہلت نہ ہو ، نیز اس نے تمتع یا قران کیا ہے جس میں قربانی واجب ہوجاتی ہے ،

تو اول قربانی کے لئے قرض حاصل کرنے کی کوشش کرے ، یا اگر اس کے پاس اپنی ضرورت سے فاضل کوئی ایسی چیزہو جسے فروخت کر کے قربانی کے بقدر پیسہ حاصل کر سکتا ہو ،

تو اس تدبیر سے کام لے ، اگر یہ دونوں باتیں ممکن نہ ہوں اور اس کا حج تمتع یا قران ہو ، تو پھر زکوۃ وصدقات کی مدد حاصل کر کے بھی قربانی کر سکتا ہے ، کیونکہ وہ مسافر ہے اور مسافر کے لئے زکوۃ لینے کی گنجائش ہے ،

یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ اگر کسی جنایت یا غلطی کی وجہ سے دم واجب ہوا ہے تو یہ تو واجب ہے کہ اس کی قربانی حرم ہی میں دی جائے ، لیکن ان ہی ایام میں دینا ضروری نہیں ، اگر مجبوری ہو تو ہندوستان واپس آکر اپنے کسی عزیز کے ذریعہ جو سعودی میں مقیم ہو ، بعد میں بھی قربانی دی جا سکتی ہے ۔