کانگریس کو ووٹ دیا تو سرسلہ ضلع ختم ہو جائے گا: کے ٹی آر
تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کی مہم زوروں پر ہے اور بڑی سیاسی جماعتوں کے سرکردہ قائدین انتخابی میدان میں سرگرم نظر آ رہے ہیں۔
تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کی مہم زوروں پر ہے اور بڑی سیاسی جماعتوں کے سرکردہ قائدین انتخابی میدان میں سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ سابق وزیر اور بی آر ایس کے سینئر رہنما کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے جمعرات کو سرسلہ ٹاؤن میں بلدیاتی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور ووٹروں کو خبردار کیا کہ کانگریس کو ووٹ دینے سے سرسلہ ضلع کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ایک طرف بی آر ایس ہے اور دوسری طرف کانگریس، جس نے اپنے وعدے بھلا دیے ہیں، اور بی جے پی جو کبھی کبھار مذہب کے نام پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے۔
کے ٹی آر نے کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے رہنماؤں نے بہت سے وعدے کیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے وعدے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی اٹھا کر لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بتکمّا ساڑیوں کی اسکیم بند کیے جانے سے بُنکروں کی روزی روٹی متاثر ہوئی اور کئی خاندانوں کا ذریعہ معاش ختم ہو گیا۔
بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ یہ پارٹی صرف انتخابات کے وقت مذہب کے نام پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کانگریس کو ووٹ دیا گیا تو سرسلہ ضلع کی شناخت ختم کیے جانے کا خدشہ ہے، جس سے مقامی ترقی اور روزگار کو شدید نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ جو لوگ خالی وعدوں پر یقین رکھتے ہیں وہ کانگریس کو ووٹ دیں، اور جو سرسلہ کے مستقبل، روزگار اور ترقی کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں وہ بی آر ایس کے حق میں ووٹ کریں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ سرسلہ کو مضبوط پیغام دینے کے لیے بی آر ایس کی حمایت ضروری ہے۔
سرسلہ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران کے ٹی آر کے اس بیان نے سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں انتخابی مہم کے مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔