اگر آپ یہ کام نہیں کریں گے تو آپ کے گیس سلینڈر کی سبسیڈی ہوگی بند
وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مطابق تمام گھریلو ایل پی جی صارفین کو بایومیٹرک آدھار تصدیق مکمل کرانا ضروری ہوگا، بصورت دیگر گیس سروس اور سبسڈی روک دی جا سکتی ہے۔
نئی دہلی: ملک میں ایل پی جی کی قلت کے درمیان حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ای-کے وائی سی (الیکٹرانک کے وائی سی) کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مطابق تمام گھریلو ایل پی جی صارفین کو بایومیٹرک آدھار تصدیق مکمل کرانا ضروری ہوگا، بصورت دیگر گیس سروس اور سبسڈی روک دی جا سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں صارفین کو بُکنگ کے باوجود سلنڈر دستیاب نہیں ہو پا رہا، جبکہ بعض مقامات پر ہوٹل اور ریسٹورنٹس بھی عارضی طور پر بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔
وزارت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صارفین اب گھر بیٹھے موبائل فون کے ذریعے آسانی سے اپنی ای-کے وائی سی مکمل کر سکتے ہیں اور اس کے لیے کسی دفتر یا ایجنسی جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
صارفین اپنی گیس کمپنی کے موبائل ایپ جیسے انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پٹرولیم یا ہندوستان پٹرولیم ڈاؤن لوڈ کر کے ایل پی جی آئی ڈی کو موبائل نمبر سے لنک کریں، ای-کے وائی سی یا آدھار تصدیق کا آپشن منتخب کریں، اپنا آدھار نمبر درج کریں اور Aadhaar Face RD App کے ذریعے چہرے کی تصدیق مکمل کریں۔
مزید معلومات کے لیے صارفین سرکاری ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں، اپنے مقامی ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر سے رابطہ کر سکتے ہیں یا ٹول فری نمبر 1800 2333 555 پر کال کر سکتے ہیں۔
حکام نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی ای-کے وائی سی مکمل کر لیں تاکہ گیس کی فراہمی اور سبسڈی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔