حیدرآباد

حیدرآباد میں پانی کی قلت کا تعلیمی اداروں پر اثر، کئی کالجوں میں تعطیلات کا اعلان

حیدرآباد کے کور اربن ریجن اکنامی یعنی CURE علاقے میں پانی کی قلت کا اثر اب تعلیمی اداروں اور ہاسٹلس پر بھی پڑنے لگا ہے۔ پانی کی کمی کے باعث کئی رہائشی کالجوں نے عارضی تعطیلات کا اعلان کردیا ہے، جبکہ طلبہ کو دیوالی تک اپنے گھروں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حیدرآباد کے کور اربن ریجن اکنامی یعنی CURE علاقے میں پانی کی قلت کا اثر اب تعلیمی اداروں اور ہاسٹلس پر بھی پڑنے لگا ہے۔ پانی کی کمی کے باعث کئی رہائشی کالجوں نے عارضی تعطیلات کا اعلان کردیا ہے، جبکہ طلبہ کو دیوالی تک اپنے گھروں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ال نینو کے اثرات کے باعث حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مادھاپور اور اس کے اطراف واقع سری چیتنیا اور نارائنا کالجوں کی انتظامیہ نے منگل کے روز اپنے رہائشی کیمپس میں دیوالی تک تعطیلات کا اعلان کیا۔

کالج انتظامیہ کی جانب سے سرکلر جاری کرتے ہوئے والدین سے کہا گیا کہ وہ اپنے بچوں کو منگل کی شام یا بدھ کی صبح تک کالج سے واپس لے جائیں۔ پانی کی قلت کے باعث طلبہ کو پینے کے پانی، کھانا پکانے، نہانے اور دیگر روزمرہ ضروریات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کالجوں میں روزانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب تک خانگی واٹر ٹینکرس کے ذریعے پانی حاصل کیا جا رہا تھا، تاہم واٹر ٹینکر آپریٹرس کے خلاف عہدیداروں کی کارروائی کے بعد پانی کی سربراہی متاثر ہوگئی، جس کے باعث کالج انتظامیہ کو تعطیلات کا اعلان کرنا پڑا۔

مادھاپور اور آیاپا سوسائٹی کے قریب واقع نارائنا کے تقریباً 10 جونیئر کالجوں نے بھی دیوالی تک عارضی تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح سری چیتنیا انتظامیہ نے شہر کی اپنی بعض دیگر شاخوں میں بھی طلبہ کو عارضی طور پر گھروں کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔ تعطیلات کے اعلان کے بعد کئی طلبہ اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔ ہائی ٹیک سٹی کے اطراف میٹرو اسٹیشنوں پر بھی طلبہ کی بھیڑ دیکھی گئی، جو بس اور ریلوے اسٹیشنوں کے ذریعے اپنے آبائی مقامات کو جا رہے تھے۔

اگرچہ کالجوں نے دیوالی تک تعطیلات کا اعلان کیا ہے، لیکن دوبارہ کالج کھولنے کی تاریخ کا ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انتظامیہ نے طلبہ کو بتایا ہے کہ کالجوں کے دوبارہ آغاز کی تاریخ بعد میں بتائی جائے گی۔ تعلیمی نقصان سے بچنے کے لیے کالج انتظامیہ نے روزانہ آن لائن کلاسس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب پانی کی قلت کا اثر کور اربن ریجن کے خانگی ہاسٹلس پر بھی پڑ رہا ہے۔ واٹر ٹینکرس پر انحصار کرنے والے ہاسٹلس کو روزمرہ ضروریات کے لیے پانی حاصل کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔

ادھر عثمانیہ یونیورسٹی بھی پانی کی قلت کے خدشے کے پیش نظر اقدامات کر رہی ہے۔ حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ یعنی ایچ ایم ڈبلیو ایس ایس بی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اطلاع دی ہے کہ پانی کی سربراہی کے اوقات میں کمی کی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق پانی کی قلت سے متاثرہ بعض ہاسٹلس کے طلبہ کو ایسے ہاسٹلس میں منتقل کیا گیا ہے جہاں پانی کی بہتر سہولت موجود ہے۔ یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ کیمپس میں کھلی جگہوں اور بورویلز کی موجودگی کے باعث فی الحال پانی کے شدید بحران کا امکان نہیں ہے۔