قومی
ٹرینڈنگ

آدھار کی جگہ ووٹر کارڈ لازمی بنانے کی تیاری

ملک بھر میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے خلاف پہلے ہی احتجاج اور مخالفت جاری ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کے ایک نئے فیصلے نے عوام میں تشویش پیدا کردی ہے۔ اب مرکز حکومت سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد فراہم کرنے کے لیے آدھار کارڈ کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ کو لازمی بنانے پر غور کر رہی ہے۔

ملک بھر میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے خلاف پہلے ہی احتجاج اور مخالفت جاری ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کے ایک نئے فیصلے نے عوام میں تشویش پیدا کردی ہے۔ اب مرکز حکومت سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد فراہم کرنے کے لیے آدھار کارڈ کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ کو لازمی بنانے پر غور کر رہی ہے۔ اس فیصلے کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ اگر کسی شہری کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کردیا جاتا ہے تو کیا اسے سرکاری اسکیموں کے فوائد سے بھی محروم ہونا پڑے گا؟

تفصیلات کے مطابق مرکزی وزیر پنچایت راج راجیو رنجن سنگھ المعروف للن سنگھ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ پنچایت راج کی اسکیموں کے تحت سرکاری فوائد حاصل کرنے کے لیے اب آدھار کارڈ کے بجائے ووٹر شناختی کارڈ کو بنیادی دستاویز بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکیموں کے مستحقین کو اپنے ووٹر شناختی کارڈ کا نمبر یعنی ای پی آئی سی کے ساتھ بایومیٹرک تفصیلات بھی فراہم کرنی ہوں گی۔

وزیر نے جمعہ کے روز جن یوجنا ابھیان کے موضوع پر منعقدہ قومی سطح کی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ مستحقین کو رقم کی ادائیگی کے لیے آدھار کارڈ کو بنیادی شناختی دستاویز نہیں بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آدھار کارڈ بنانے کا نظام اس قدر آسان ہے کہ تقریباً ہر علاقے میں اس کی سہولت موجود ہے اور محض پانچ منٹ میں بھی آدھار کارڈ بنایا جاسکتا ہے۔ اسی لیے مستحقین کی شناخت کے لیے ووٹر کارڈ نمبر اور بایومیٹرک تفصیلات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نئے نظام کا اطلاق کن کن سرکاری اسکیموں اور مالی امداد پر ہوگا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں ایس آئی آر کے ذریعے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی پر شدید اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں، سماجی کارکنوں اور مختلف شہری تنظیموں کا الزام ہے کہ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں اہل ووٹرس کے نام بھی غلط طریقے سے ووٹر لسٹوں سے حذف کیے جا رہے ہیں۔

مختلف تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر کے تحت اب تک تقریباً 13 کروڑ ووٹرس کے نام فہرستوں سے نکالے جاچکے ہیں۔ ان تنظیموں کو اندیشہ ہے کہ اس عمل میں حقیقی ووٹرس کو بھی غیر حاضر یا ناقابل شناخت قرار دے کر ان کے نام حذف کیے جا رہے ہیں۔

اس معاملے پر سپریم کورٹ نے بھی اہم وضاحت کی ہے۔ عدالت نے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا، تاہم یہ واضح کیا کہ ایس آئی آر کے ذریعے الیکشن کمیشن کو کسی شخص کی ہندوستانی شہریت کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

دوسری جانب بعض بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے والے افراد کو سرکاری فلاحی اسکیموں سے محروم کیے جانے کے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں۔

مغربی بنگال میں سُویندو ادھیکاری کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے راشن کارڈ رکھنے والے افراد کی تفصیلات کو نظرثانی شدہ ووٹر لسٹوں سے ملانے کا عمل شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کو مالی امداد فراہم کرنے والی اسکیم کے مستحقین کی اہلیت کا بھی دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسی طرح بی جے پی زیر اقتدار بہار میں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اعلان کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے جن افراد کے نام حذف کیے گئے ہیں، انہیں راشن اور دیگر سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد نہیں ملیں گے۔

ان تمام حالات کے درمیان مرکزی وزیر کی جانب سے ووٹر شناختی کارڈ کو سرکاری اسکیموں کے لیے بنیادی دستاویز بنانے کا اعلان اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ پہلے ہی ایس آئی آر کے باعث ووٹرس میں تشویش پائی جا رہی ہے، ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ اگر کسی اہل شہری کا نام ووٹر لسٹ سے حذف ہوجاتا ہے تو کیا اسے سرکاری فلاحی اسکیموں سے بھی محروم ہونا پڑے گا؟