حیدرآباد میں ٹینکر آپریٹرس کی ہڑتال ختم، پانی کی سربراہی بحال کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد میں پانی کے ٹینکر آپریٹرس نے اپنی ہڑتال ختم کرتے ہوئے فوری طور پر آبی سربراہی بحال کرنے سے اتفاق کرلیا ہے۔ انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ تجارتی مقاصد کے لیے بورویل کا پانی صرف آؤٹر رنگ روڈ کے باہر کے علاقوں، یعنی پی یو آر ای خطے سے ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کے بعد ہی حاصل کیا جائے گا۔
حیدرآباد میں پانی کے ٹینکر آپریٹرس نے اپنی ہڑتال ختم کرتے ہوئے فوری طور پر آبی سربراہی بحال کرنے سے اتفاق کرلیا ہے۔ انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ تجارتی مقاصد کے لیے بورویل کا پانی صرف آؤٹر رنگ روڈ کے باہر کے علاقوں، یعنی پی یو آر ای خطے سے ضروری اجازت نامے حاصل کرنے کے بعد ہی حاصل کیا جائے گا۔ حیدرا کے کمشنر اے وی رنگاناتھ نے بتایا کہ وزیر پونم پربھاکر کی ہدایت پر واٹر ٹینکر آپریٹرس اسوسی ایشن کے صدر چندر شیکھر کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔
اے وی رنگاناتھ نے کہا کہ تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بعض بورویل 1,000 سے 1,500 فٹ تک گہرے کھودے جارہے ہیں، جس کے باعث زیر زمین آبی ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔ اس کے برعکس گھریلو استعمال کے بورویل عموماً 100 سے 300 فٹ گہرے ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تلہ پور، سرورم اور جیڈی میٹلہ کے مقامی افراد نے تجارتی بورویل کے ذریعہ بڑے پیمانے پر پانی نکالنے اور اس کے نتیجے میں گھریلو بورویل خشک ہوجانے کی شکایات کی تھیں۔
حیدرا کے کمشنر کے مطابق غیر قانونی طور پر زیر زمین پانی نکالنے کے عمل کو روکنے کے لیے حیدرا، حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ، محکمہ مال، پولیس اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کے ساتھ مل کر کارروائی کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی تجارتی اداروں کو پانی کی سربراہی متاثر نہ ہونے دینے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔