قانونی مشاورتی کالمقومی

ایک مکان نے رشتوں میں دراڑ ڈال دی، بھائیوں کے درمیان قانونی جنگ عدالت پہنچ گئی

والد کے انتقال کے بعد فیملی ممبر سرٹیفکیٹ میں مبینہ جعل سازی، مکان کی منتقلی اور گفٹ ڈیڈ کو لے کر دیوانی و فوجداری مقدمات زیرِ سماعت؛ عدالت کے فیصلے پر نظریں

سوال : میرا نام حبیب الدین ہے اور میری عمر 58 سال ہے۔ میں نظام آباد کا ساکن ہوں۔میرے چھوٹے بھائی کا نام حمید الدین ہے ۔ ان کی عمر 48 سال ہے اور وہ حال مقیم سعودی عربیہ ہیں۔ ہمارے والد محترم جناب یوسف الدین ریٹائرڈ فارمیسی سپروائزر کا انتقال 17 اپریل 2019ء کو ہوااور میں ان کی پنشن کو فیملی پنشن میں والدہ صاحبہ کےنام کروانے کے لئے می سیوا سے فیملی ممبر سرٹیفکیٹ بنوایا تھا، جس میں فیملی ممبرس چار تھے۔

جن میں‘نذیر النساء بیگم (زوجہ یوسف الدین)،حبیب الدین ( فرزندیوسف الدین)،​شمس النسا بیگم (دختر یوسف الدین)،​حمید الدین (فرزند یوسف الدین) شامل ہیں۔‘ابھی بھی آن لائن درخواست نمبر کے ذریعہ چیک کرنے پر اوریجنل سرٹیفکیٹ میں مکمل فیملی ممبرس کے نام موجود ہیں۔

لیکن میرے بھائی حمید الدین نے جعل سازی سے میرے نام کو حذف کرتے ہوئے صرف تین فیملی ممبرس کا زیراکس سرٹیفکیٹ منسلک کیا اور والدہ صاحبہ اور بہن کو فی کس 10 لاکھ روپئے دیتے ہوئے والد صاحب کا مکان اپنے نام رجسٹرڈ ریلیز ڈیڈ کے ذریعہ ٹرانسفر کروالیا۔میرےپوچھنے پر کہنے لگے کہ آپ لاولد ہیں، آپ کو کیا ضرورت ہے؟ اس کے علاوہ والد صاحب ایک مکان 2007ء میں پہلے ہی آپ کو ہبہ کر چکے ہیں۔

اگر میں کچھ قانونی اقدام ان کے خلاف اٹھاؤں تو وہ میرے رجسٹرڈ گفٹ سیٹلمنٹ ڈیڈ جو 2007ء میں محض گورنمنٹ فیس بچانے کے لئے ہوا تھا۔ اس معاملہ میں کارروائی کریں گے۔ جب کہ زمین جو ہمارے دادا جناب خیرالدین صاحب کے نام پرتھی، جس کے میرے والد صاحب تنہا وارث تھے، اس پر میرے اپنے سرمایہ سے والد صاحب کے پرزور اصرار پر مکان گراؤنڈ پلس ون فلور بنوانے کے بعد رجسٹرڈ گفٹ سیٹلمنٹ 2007ء میں کرواکر میرےقبضے و تصرف میں لا لیا تھا۔‘

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے شادی کے 26ویں سال مجھے جڑواں بچے ہوئے۔ بچوں کے نام محمد ثاقب الدین اور انیزہ تحرین ہیں۔میں دیوانی اور فوجداری کیس 2022ء میں نظام آباد کورٹ میں فائل کیا ہوں۔میرے بھائی پولیس کے طلب کرنے پر فراری کا راستہ اختیار کئے۔ وہ سعودی عربیہ چلے گئے۔

چار سال سے انڈیا ہی نہیں آرہے ہیں اور وہیں سے والدہ صاحبہ کو جنرل پاور آف اٹارنی بناکر میرے حیدرآباد کے والد صاحب کے گفٹ کئے گئے گھر کے خلاف جھوٹا کیس ڈال کر مجھے میرا کیس واپس لینے کے لئے مجبور کر رہے ہیں جب کہ 2007ء سے 2019ء تک والد صاحب بقیدحیات تھے۔ کبھی کوئی شکایت نہیں رہی۔ علاوہ ازیں فیملی ممبر سرٹیفکیٹ پر پرنٹڈ ہے کہ اس سرٹیفکیٹ کو جائیداد کی تقسیم میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس جعلی زیراکس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر رجسٹرڈ ریلیز ڈیڈ کیسے بنوایاگیا۔

جواب :​آپ نے خود یہ کہا ہے کہ آپ نے معاملہ کو عدالت سے رجوع کیا ہے اور کیس زیرِ التوا ہے۔ اب اس وقت معاملہ عدالت میں زیر دوراں ہے۔اب فریقین کے درمیان عدالت میں معاملہ چل رہا ہے۔

اس دوران کوئی اور رائے دینا مناسب نہیں ہے۔آپ نے جو بھی شکوک و شبہات اور سوالات اٹھائے ہیں۔ وہ قانونی طور پر کتنے ویلڈ یا درست ہیں، کہاں تک مناسب ہے، اس بات کا فیصلہ اب عدالت ہی میں ہوگا۔

ابھی معاملہ عدالت میں ہے، آپ نے فوجداری مقدمہ بھی کیا ہے اور دیوانی مقدمہ بھی کیا ہے اور نظام آباد کورٹ میں یہ معاملہ چل رہا ہے تو اب ایسے حالات میں فریقین یا آپ کے مخالفین کے درمیان جو معاملات چل رہے ہیں۔ان کے بارے میں کوئی رائے دینا مناسب نہیں رہے گا۔

لہٰذا آپ سے ادبًا گزارش یہ ہے کہ کیونکہ آپ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور اپنے خلاف میں ہونے والی ناانصافی کے خلاف میں آپ پہلے ہی عدالت سے رجوع ہو چکے ہیں تو یہ معاملہ آپ عدالت میں ہی نمٹائیں اور عدالت میں موثر پیروی کرتے ہوئے اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

اس موقع پر اتناکہنا کافی ہوگا کہ کوئی بھی غیر حاضر رہ کر عدالتی فیصلوں میں تاخیر نہیں کرسکتا۔ عدالت اپنے طور پر نمٹتی ہے۔ حالات کا جائزہ لیتی ہے۔ یہ بات آپ کوسمجھنا ضروری ہے۔