حیدرآبادقانونی مشاورتی کالمقومی

ووٹرس کی پریشانی ختم ہوگی یا ابھی کچھ باقی ہے؟

تلنگانہ میں ایس آئی آر کے آخری مرحلے کے ساتھ گریجویٹ ایم ایل سی ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج کا عمل بھی جاری، اہل افراد کے لیے فارم نمبر 18 داخل کرنے کی اپیل۔

سوال : ایس آئی آر کے عمل کے دوران میرا نام’لاجیکل ڈسکرپینسیزکے زمرے میں آیا تھا۔ میں سماعت میں بھی شریک ہوا ہوں اور دستاویزات بھی داخل کیا ہوں۔کیا‘میرا نام اب قطعی ووٹر لسٹ میں آ جائے گا؟‘کچھ لوگ مسلسل مجھ سے رابطہ کر رہے ہیں اور یہ پوچھ رہے ہیں کہ ایس آئی آر کے اس پورے عمل میں قطعی ووٹر لسٹ میں سے نام نکل جانے کا جو خدشہ تھا۔

کیا وہ خدشہ اب ختم ہوگیا ہے؟جو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کئے جانے تھے۔کیا وہ سب مکمل کرلئےگئے ہیں یا کچھ اور ووٹرس کی طرف سے جو ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں ان کی طرف سے کچھ اور کارروائی اس میں کرنے کی ضرورت ہے؟ایک اور بات مسلسل اخبارات میں شائع ہو رہی ہےکہ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے حلقہ جات گریجویٹس کے لئے ابھی اگر کوئی بحیثیت ووٹر اپنا نام درج کروانا چاہتے ہیں تو نام درج کروانے کی گزارش کی جارہی ہے۔اس کا کیا طریقہ کار ہے؟ تفصیل سے بتائیں تو عین نوازش ہوگی۔

جواب: ریاست تلنگانہ میں جواسپیشل انٹینسیو ریویژن کےکام کا آغاز ہوا تھا، ابھی وہ آخری مرحلہ میں ہے۔‘یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔اب ادعاجات اور اعتراضات کےڈسپوزل یا نمٹنے کااسٹیج ہےاور اس مرحلہ میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اگر کوئی بھی ووٹر کواہل قرار نہیں دیا جاتا ہے تو اس کے لئے ایک اسپیکنگ آرڈر پاس کرنا پڑتا ہے اور اس آرڈر کوکمیونیکیٹ کرنا پڑتا ہے۔

وہ آرڈر کی کاپی اس ووٹر کو دینی پڑتی ہے تاکہ وہ آگے کی کارروائی کر سکے۔آگے کی کارروائی میں ہوتا یہ ہے کہ ای آر او کا جو بھی اسپیکنگ آرڈر ہے۔ اس کے خلاف میں آپ‘ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کو اپیل کرتے ہیں، اس کے بعد سیکنڈ اپیل اسٹیٹ الیکشن کمیشن سے کی جاسکتی ہے۔اس کے بعد آپ کے پاس چیف الیکشن کمیشن سے بھی اپیل کرنے کے اختیارات ہوتے ہیں، پھر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے بھی آپ رجوع ہو سکتے ہیں۔

ہر مرحلہ میں آپ کے لئے قانونی اقدامات کرنے کے لئے کافی الٹرنیٹیوز یامتبادلات آپ کے پاس موجود ہیں۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر کے عمل کو لے کر ابھی جس طرح سے‘ایک تحریک کا آغاز ہواہے۔ اس کی خوش آئند بات یہ ہے کہ اس کے اثرات ابھی نظر آ رہے ہیں۔الیکشن کمیشن وقتاً فوقتاً اپنےآرڈرس یا احکامات میں مسلسل تبدیلی کر رہا ہے تاکہ ووٹرس کو راحت مل سکے جیسا کہ ابھی جن ریاستوں میں ایس آئی آر کا پروسیس اختتام کو پہنچا ہے۔

ان ریاستوں میں اب یہ کہا جا رہا ہے کہ سمری ریویژن کا کام ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی ووٹرس چھوٹ گئے ہیں۔ ان ووٹرس کو پھر سے موقع دیا جائے گا کہ وہ فارم نمبر 6 داخل کرتے ہوئے اپنے نام کو بحیثیت ووٹر درج کروائیں۔ ریاست تلنگانہ میں 9 نومبر کو قطعی یا فائنل ووٹرلسٹ کی اشاعت عمل میں لائی جائے گی۔

اس کے بعد تلنگانہ ریاست کے لئے بھی ایسے ہی احکامات جاری ہونے کے قوی امکانات ہیں جس کے تحت یہ کہا جائے گا کہ جو ووٹرس چھوٹ گئے ہیں۔ ان کوفارم نمبر 6 داخل کرتے ہوئے پھر سے ووٹر بننے کا موقع دیا جائے گا۔ اسی طرح جو نئے ووٹر بننا چاہتے ہیں ان کے لئے ہر سال یہ موقع فراہم کیا جائے گااور نئے ووٹر بننے کے لئے جو ونڈو ہے جو دروازے ہیں۔

وہ ہمیشہ کھلے رہیں گے جس کے تحت آپ کبھی بھی ووٹر بن سکتے ہیں۔ ایس آئی آر کے عمل کی شدید مخالفت ہوئی ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب اتنی سختی اس وقت الیکشن کمیشن کے جانب سے نہیں ہو رہی ہے۔یہ ایک خوش آئند بات ہے۔

جہاں تک کونسل کی گریجویٹس کانسٹیٹیوئنسی کا معاملہ ہے۔ اس وقت تلنگانہ ریاست میں دو ایم ایل سی گریجویٹس کانسٹیٹیوئنسی کے لئے انتخابات ہونے والے ہیں۔اس کے لئے ووٹرس کی فہرست تیار کی جا رہی ہے۔گریجویٹ ووٹرلسٹ کے لئے ایسے گریجویٹس اہل ہیں جو اپنی ڈگری تین سال قبل مکمل کر چکے ہیں۔ایسے افرادایم ایل سی کانسٹیٹیوئنسی کی ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کروانے کے لئے اہل ہوں گے۔ اگر آپ کا گریجویشن کم ازکم تین سال قبل مکمل ہو چکا ہےیا آپ بہت پہلے ہی گریجویشن مکمل کر چکے ہیں۔

وہ گریجویٹ ووٹرلسٹ میں اپنے نام کے اندراج کے لئے درخواست داخل کر سکتے ہیں تاہم کنڈیشن یا شرط یہ ہے کہ گریجویشن کم سے کم تین سال قبل مکمل ہونا چاہئے۔ ایسے اہل گریجویٹس جو ایم ایل سی کانسٹیٹیوئنسی کے خصوص میں بحیثیت ووٹر رجسٹر نہیں ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ بحیثیت ووٹر اپنا نام درج کروائیں۔ اس کے لئے آسان طریقہ ہے یہ ہے کہ آپ سی ای او تلنگانہ کی ویب سائٹ اوپن کریں جب اس ویب سائٹ کو آپ کلک کریں گے تو جو پیج اوپن ہوگا۔

اس میں لیجسلیٹوکانسٹیٹیوئنسی کا بھی لنک اوپن ہوگا۔اس لنک کو آپ اگر کلک کریں گےتو آپ کو ایک فارم اوپن ہوگا، اس فارم میں آپ کو کانسٹیٹیوئنسی کی اساس پر تفصیلات درج کرنی ہوگی جیسا کہ تلنگانہ میں اب حیدرآباد، رنگا ریڈی اور محبوب نگر ایک کانسٹیٹیوئنسی ہےجبکہ ورنگل، کھمم، نلگنڈہ دوسری کانسٹیٹیوئنسی ہے۔آپ کونسی کانسٹیٹیوئنسی سے تعلق رکھتے ہیں۔

وہ کانسٹیٹیوئنسی کو سلیکٹ کرتے ہوئےآپ کو اپنے موجودہ اسمبلی کانسٹیٹیوئنسی کا نام درج کرتے ہوئے اپنی تفصیلات کو اس فارم میں پرکرنا ہوگا ۔ فارم کی مکمل خانہ پری کے بعد میں آپ کاگریجویشن سرٹیفکیٹ، آدھار کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کارڈ اگر آپ کے پاس موجود ہو تو ان کی کاپیز کو آپ اپ لوڈ کرتے ہوئےفارم کو آن لائن سبمٹ کریں۔

کونسل کی ایم ایل سی کانسٹیٹیوئنسی کے لئے ایک علیحدہ ووٹر لسٹ تیار کی جا رہی ہے۔جس میں اہل گریجویٹس کو اپنا نام درج کروانا ہوگا۔ اہل گریجویٹ ووٹرس کی حیثیت سے ناموں کے اندراج کے لئے جو فارم فراہم کیا گیا ہے۔ اس فارم کو فارم 18 کہتے ہیں۔ اہل گریجویٹس جو بحیثیت ووٹر،گریجویٹ ووٹرلسٹ میں اپنا نام درج کروانا چاہ رہے ہیں۔

انہیں چاہئے کہ وہ گریجویٹ کانسٹیٹیوئنسی کے زمرہ میں فارم نمبر18 بھرتے ہوئے اپنا نام ووٹر لسٹ میں درج کروائیں۔ گریجویٹ ووٹرلسٹ میں ناموں کے اندراج کا کام ابھی جاری ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈرس بھی گھر گھر پہنچ کر اہل گریجویٹس کو ووٹرلسٹ میں نام کے اندراج کے لئے فارم نمبر 18 کے ادخال کی ترغیب دے رہے ہیں۔

کونسل کے حلقہ جات گریجویٹ کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ 20 نومبر کو شائع کی جائے گی۔ اس کے بعد اعتراضات اور ادعا جات 10دسمبر تک وصول کئے جائیں گے جن کی اسکروٹنی یا جانچ 25 دسمبر تک ہوگی اور​ 30 ڈسمبرکو قطعی ووٹر لسٹ جاری کر دی جائے گی۔ ایسےاہل گریجویٹس جو قانون سازکونسل کے حلقہ جات گریجویٹس کے انتخابات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

انہیں چاہئے کہ وہ فوری طورپر اپنا نام گریجویٹ ووٹر لسٹ میں درج کروائیں۔ ہر اہل گریجویٹ ووٹر کو بہر صورت اپنا نام درج کروانا چاہئے اور جمہوری عمل میں حصہ لینا چاہئے تاکہ آپ کا پسندیدہ امیدوار کامیاب ہو سکے اور آپ کے مسائل حل ہو سکیں۔