تلنگانہ

بین ذات شادی۔پولیس اسٹیشن میں لڑکی کے رشتہ داروں کا نوبیاہتا جوڑے پر حملہ

بین ذات شادی کرنے پر پولیس اسٹیشن میں لڑکی کے رشتہ داروں نے نوبیاہتا جوڑے پر حملہ کردیا۔

حیدرآباد: بین ذات شادی کرنے پر پولیس اسٹیشن میں لڑکی کے رشتہ داروں نے نوبیاہتا جوڑے پر حملہ کردیا۔

متعلقہ خبریں
سنکرانتی منانے گھر آیا نوجوان پراسرار حالات میں مردہ پایاگیا
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
دلہن کے گانے نے شادی کو بنا دیا خواب جیسا لمحہ(ویڈیو وائرل)
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

یہ واقعہ تلنگانہ کے جوگولامباگدوال ضلع مستقر میں پیش آیا۔

تفصیلات کے مطابق گدوال کے راگھویندر کالونی کے پرشانت اور پڈورو گاؤں کی شریشا گزشتہ 5 سال سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔

ان دونوں کے ارکان خاندان ذات الگ ہونے کی وجہ سے شادی کیلئے راضی نہیں ہوئے جس پر ان دونوں نے 8 جولائی کو اپنے ارکان خاندان کی مرضی کے خلاف مندر میں شادی کرلی۔

بعد ازاں لڑکی کے رشتہ داروں نے اس کی گمشدگی کی شکایت پولیس سے کی۔

اسی دوران نوبیاہتا جوڑا بھی پولیس اسٹیشن پہنچ گیا جس نے دعوی کیا کہ وہ دونوں بالغ ہیں اور یہ شادی ان کی مرضی سے ہوئی ہے۔

انہیں اپنے گھر والوں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

لڑکی کے رشتہ داروں نے اس شادی پر ناراضگی اور برہمی ظاہرکرتے ہوئے اس جوڑے پر حملہ کردیا۔